تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 516
خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اگست 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک أَنْتَ مَوْلنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ کہ تو ہمارا مولا بن چکا ہے اور کافروں کا مولا کوئی نہیں۔اس لئے لازمی نتیجہ نکلنا چاہئے کہ ہمیں فتح نصیب ہو۔مثلاً جنگ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومدد کی بڑی شدید ضرورت تھی۔313 کمزور صحابہ کا جن کے پاس ہتھیار بھی پورے نہیں، ان میں بیمار اور بوڑھے بھی تھے اور بچے بھی شامل تھے، جو ایڑیاں اٹھا اٹھا کر جوان بن کر بیچ میں داخل ہوئے تھے۔لیکن ایڑیاں اٹھانے سے تو قد اونچے نہیں ہو جایا کرتے اور نہ انسان جوان ہو جاتا ہے۔اس کمزوری کی حالت میں عرب کا ایک مشہور پہلوان، جو فنون حرب کا چوٹی کا ماہر سمجھا جاتا تھا، وہ آیا اور اس نے کہا کہ میں بھی مسلمانوں کی طرف سے شامل ہو کر اہل مکہ کے خلاف لڑنا چاہتا ہوں۔اس کی کچھ دشمنیاں تھیں، جو اتارنا چاہتا تھا۔اب وہ شخص جس نے خدا کو مولانہ بنایا ہو، وہ شخص جس کا کامل تو کل اپنے رب پر نہ ہو ، وہ یہ جواب دے ہی نہیں سکتا ، جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔آپ نے صحابہ سے فرمایا: اس کو واپس کر دو۔مجھے خدا کے معاملہ میں کسی مشرک کی ضرورت نہیں ہے۔کتنی شدید ضرورت تھی۔عام حالات میں انسان خوش ہو جاتا ہے، الحمد للہ ایک مدد گار مل گیا ہے۔اور نفس یہ بھی بہانہ بنالیتا ہے کہ خدا نے بھیجا ہے، مین ضرورت کے وقت چیز آئی ہے، خدا نے بھیجی ہوگی۔لیکن وہ کامل موحد، جو تو کل کے مضمون کو جانتا تھا، جو جانتا تھا کہ خدا کے سوا میرا کوئی مولی نہیں ہے، اس نے یہ جواب دیا کہ نہیں ، مجھے کسی مشرک کی ضرورت نہیں۔یہ وہ مضمون ہے، جس تک پہنچنے کے لئے سچائی کی ضرورت ہے، تقویٰ کی ضرورت ہے۔بچے دل سے آپ اپنے رب کے بنیں گے تو وہ مولیٰ بنے گا۔اگر منہ کی باتیں ہوں گی تو نہیں بنے گا۔دوستی کے حق ادا کرنے کوئی مشکل نہیں ہیں۔خدا سے پیار کا تعلق بڑھانا پڑے گا۔اور یہ آسان منزلیں ہیں، جیسا کہ میں نے بیان کیا، یہ ساری دعا ئیں ہمیں بتا رہی ہیں، یہ نہایت ہی آرام دہ سفر ہے۔عفو سے مغفرت میں آپ داخل ہوئے، پھر رحم میں داخل ہو گئے اور آخر پر مولیٰ کہہ کر سارا بوجھ ہی خدا پر ڈال دیا۔اس سے زیادہ بھی کوئی آسان سفر ہو سکتا ہے۔لیکن بد قسمت ہے انسان، جو یہ سفر بھی اختیار نہیں کرتا۔اس میں جذبات کا رخ خدا کی طرف موڑنا پڑتا ہے، بچے پیار کا تعلق اپنے رب سے پیدا کرنا پڑتا ہے، اس سے سچی محبت کرنی پڑتی ہے، اس کو اپنے وجود پر غالب کرنا پڑتا ہے۔جب تک یہ باتیں نصیب نہ ہوں، اس وقت تک یہ سفر بظاہر آسان ہونے کے باوجود بھی انسان اختیار نہیں کر سکتا۔اس لئے اپنی ذمہ داریوں کو لوظ رکھیں۔بے انتہا کام ہیں۔516