تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 513
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اگست 1983ء سے فائدہ اٹھانا شروع کرے تو اس کے جسم میں نشو ونما پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔اور ایک انسان اگر لیٹا ر ہے اور آرام طلب بن جائے تو بعض دفعہ وہ دو قدم بھی نہیں چل سکتا۔اگر ان دونوں کو سمجھا دیا گیا ہو کہ تمہاری یہ ذمہ داریاں ہیں اور فلاں وقت ہم نے تمہیں فلاں سفر پر روانہ کرنا ہے تو وہ شخص جو لیٹا رہا اور اس نے اپنی طاقتوں کو ضائع کر دیا، اس وقت وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے طاقت نہیں ہے۔اس پر بات خوب کھول دی گئی تھی ، ذمہ داریاں بیان کر دی گئی تھیں۔اس لئے اس کی وہ طاقت ہونی چاہئے تھی۔اور اگر اس پر کوئی اس وقت ذمہ داری ڈالے تو نا انصافی نہیں ہوگی۔پس بسا اوقات یہ ہو سکتا ہے کہ ہماری وسعتوں کے اندر ایک چیز ہو اور ایک خاص وقت کی منزل پر جا کر ہمیں جو خدا تعالیٰ نے خوب کھول کر ہماری ذمہ داریوں کو بیان فرما دیا ہے، اس وقت پر جا کر ہم پر وہ بوجھ پڑنا ہو۔لیکن اپنی غفلت اور اپنی نالائقی کے نتیجہ میں ہم نے اپنی وہ طاقت Develop ڈویلپ نہ کی ہو۔ایسے موقع پر اگر خداوہ بوجھ ڈالے تو یہ نا انصافی نہیں ہوگی۔وسعت کے مطابق بھی ہوگا اور اس طاقت کے مطابق بھی ہوگا ، جو ہونی چاہئے تھی۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اس مضمون کو ہمارے ذہنوں میں داخل فرمایا اور ہماری توجہ اس طرف مبذول فرمائی کہ تم ہر قدم پر ایک کمزور چیز ہو۔نہ اپنی وسعتوں سے پورا فائدہ اٹھا سکتے ہو، نہ اپنی طاقتوں سے پورا فائدہ اٹھا سکتے ہو۔اس لئے پھر تمہاری وسعتوں میں دعا داخل نہیں ہوگی تو تم کچھ بھی نہیں کر سکو گے۔مجز داخل نہیں ہو گا تو تم کچھ بھی نہیں کر سکو گے۔اس لئے یہ بھی ہم سے مانگنا اور یہ عرض غفلتس بھی کیا کرنا کہ اے خدا! ہماری طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈال۔یعنی جس منزل پر چاہے، حائل ہوگئی ہوں، جس منزل پر جو طاقت ہے تو اتنا رحم فرمانا کہ اس سے زیادہ بوجھ نہ ڈال دینا ورنہ ہم مارے جائیں گے۔ہو سکتا ہے، اس سے زیادہ طاقت ہمیں حاصل کرنی چاہئے تھی لیکن ہم نہیں کر سکے۔یہ اقرار کرنے کے بعد اور یہ منت کرنے کے بعد کہ اے خدا! تو عالم الغیب ہے تو جانتا ہے ہمیں کیا کرنا چاہئے تھا؟ تمام تفاصیل پر تیری نظر ہے۔لیکن ساتھ ہم یہ عرض کر چکے ہیں کہ ہم خطا کار ہیں، ہم نسیان کے بھی شکار ہیں۔بار بار ہمیں نصیحت کی جاتی ہے، پھر باتیں بھول جاتے ہیں۔بار بار یاد کرائی جاتی ہیں، پھر ذہن سے اتر جاتی ہیں۔ذمہ داریاں دکھلا دی جاتی ہیں، پھر نظر سے اوجھل ہو جاتی ہیں۔ہم اتنے کمزور لوگ ہیں، اس لئے ہم سے رقم کا سلوک فرما اور ہماری جو طاقت ہونی چاہئے ، اس پر فیصلہ نہ کرنا، جو طاقت ہمیں کسی منزل پر میر ہو، اس کے مطابق ہم سے سلوک کرنا۔لیکن پھر ان طاقتوں کو بڑھاتے چلے جانا۔آگے ایک مضمون آئے گا ، جو بالآخر بات کھول دے گا کہ ہم نے کہاں تک پہنچنا ہے؟ اور کیا مانگنا ہے؟ 513