تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 514 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 514

خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اگست 1983ء وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا تحریک جدید - ایک الہی تحریک اے خدا! دو قسم کے معاملات ہم سے فرما۔پہلا یہ کہ درگز رفرما درگز رفرما نا اور مغفرت فرمانا ، ان دونوں چیزوں میں ایک نسبت ہے اور ایک کے بعد دوسرے کو رکھا گیا ہے۔و اغفر لنا اس چیز کو کہتے ہیں کہ ایک غفلت ہورہی ہے، اس سے روکا بھی جاسکتا ہے لیکن انسان اس کو لائسنس دے دیتا ہے، چھٹی دے دیتا ہے، کہتا ہے، کوئی بات نہیں کر لو بے شک، کچھ نہیں ہوتا۔چنانچہ ماں باپ بعض دفعہ بچوں کو بعض کھیلیں کھیلنے دیتے ہیں، جن سے ویسے وہ منع کرتے رہتے ہیں۔لیکن اگر تھوڑی سی کھیل وہ کھیل لیں، ذرا سا مشغلہ کر لیں تو وہ اعراض کر لیتے ہیں، آنکھیں پھیر لیتے ہیں اور بعض دفعہ جب بچے بیہودہ حرکتیں کر رہے ہوں تو ماں باپ ان کی طرف دیکھتے نہیں، عمداً ان کی آنکھوں میں ایک غفلت کی آجاتی ہے کہ گویا ہم نے دیکھا ہی کچھ نہیں۔اس کو کہتے ہیں، واعف عنا کہ اے خدا! ہم سے عفو کا سلوک فرما۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے، حضرت مصلح موعود کا بھی یہی طریق تھا۔کیونکہ انہوں نے اپنی عادتیں قرآن سے سیکھی تھی۔بچے کبھی بعض دفعہ لڈو کھیلتے ہیں اور حضرت صاحب پسند نہیں کیا کرتے تھے کہ وقت ضائع کریں۔لیکن سمجھتے تھے کہ آخر بچے ہیں، کبھی کبھی لڈو کھیلنے بھی دیتے تھے اور اس طرح کہ آئے ہیں اور اس طرف نظر ہی نہیں ڈالی۔اوپر نظر سے باتیں کر کے واپس چلے گئے۔گویاد یکھاہی نہیں اور جب دیکھتے تھے کہ زیادتی کرنے لگ گئے ہیں تو پھر وہ نظر نیچے ڈالتے تھے اور ہمیں بتا دیتے تھے کہ اب میں پکڑنے پر آیا ہوں۔پس انسان سے اگر کوئی عفو کر نے والا سلوک کر رہا ہو تو پھر غلطیوں کا امکان اس وجہ سے بھی بعض دفعہ ہو جاتا ہے۔بہت ہی پیار اور عفو کرنے والا وجود ہو، اس کے نتیجہ میں بھی بعض دفعہ گناہوں کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں بھی تو بعض دفعہ انسان جان بوجھ کر غلطیاں کرنے لگ جاتا ہے کہ بہت ہی مہربان ہے، ہمارا آقا۔اس لئے اے خدا! جب تو عفو کا سلوک فرمائے گا تو پھر بخشش کی تیاری بھی کر لینا۔ہم سے لازماً پھر کچھ اور غلطیاں بھی ہوں گی اور وارحمنا نے بات کھول دی کہ اے خدا ! دراصل بات یہ ہے کہ ہم اپنے طور پر اپنی طاقتوں پر اپنے ذرائع سے کچھ نہیں کر سکتے۔ہم پر رحم فرما، ہم بے کا ر لوگ ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ ہم بے کارلوگ ہیں۔رحم فرما اور جو تو نے ذمہ داریاں ڈالی ہیں، ان میں ہماری وسعتوں پر نگاہ نہ کر، اپنی وسعت پر نگاہ فرما۔انت مولانا نے یہ بات کھول دی۔آخری تان اس بات پر ٹوٹی کہ ہم نے مضمون اس طرح شروع کیا کہ خدا نے ہمیں سب کچھ عطا فرمایا ہے، وسعتیں عطا کی ہیں، ہم اپنے آپ کو ٹولیں اور دیکھیں اور اس کام میں آگے بڑھیں۔چنانچہ ! 514