تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 512 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 512

خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اگست 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک یہ دعا کرو کہ اے خدا! ہماری طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالنا۔ان دو باتوں میں تو بظاہر تضاد ہے۔جو خدا تم سے یہ عہد کر چکا ہو، ابھی ایک آیت پیچھے کہ میں ہر گز تم پر تمہاری طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالتا ہی نہیں، اس پر اعتماد کیوں نہیں کرتے ؟ اس بات پر یقین کیوں نہیں کرتے اور کیوں پھر یہ دعا کرتے ہو کہ اے خدا!! ہم پر ہماری طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالنا؟ یہ جو مضمون ہے، اس میں بعض لطیف حکمتیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ انسان کی طاقتوں اور وسعتوں میں ایک فرق ہے۔اور جب آپ وسعت اور طاقت کو ہم معنی بنا ئیں تو وہاں یہ اعتراض اٹھتا ہے۔جہاں اس فرق کو محوظ رکھ لیں، وہاں یہ اعتراض نہیں اٹھتا۔مثلاً ایک بچہ ہے، اس کی وسعت میں یہ بات داخل ہے کہ جب وہ اپنی Peak (یعنی اپنے عروج ) کو پہنچے گا تو ایک عظیم الشان پہلوان بنے گا ، اگر اس نے پہلوان بنا ہو۔اگر مثلاً اس نے دنیا کا سب سے بڑا ویٹ لفٹر یعنی بوجھ اٹھانے والا بننا ہو تو اس کی وسعت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ ایک زمانہ میں جا کر بوجھ اٹھانے کے میدان میں بہت ہی عظیم الشان پہلوان ثابت ہوگا اور ایسا ریکارڈ قائم کرے گا کہ دنیا میں پھر کوئی اسے تو ڑ نہیں سکتا۔لیکن اس کی طاقت میں یہ بات داخل نہیں۔کیونکہ بچہ ابھی اس وسعت تک پہنچا نہیں ہے، ابھی اس مقام سے پیچھے ہے۔اس کی طاقت میں تو ابھی یہ بات داخل ہے کہ آپ ہاتھ پکڑ کر چلائیں ورنہ گر پڑے گا۔اپنا بوجھ بھی نہیں اٹھا سکتا۔پس خدا تعالیٰ نے انسان کے ذہن کو ایک عظیم الشان مضمون میں داخل کر دیا اور فرمایا کہ دیکھو! وسعتیں تو تمہاری بہت ہیں۔لیکن تمہیں ان وسعتوں کا قرینہ بھی تو ہم ہی سکھائیں گے۔تمہاری طاقتوں کو رفتہ رفتہ ہم ہی بڑھائیں گے۔تم یہ دعائیں کرو کہ اے خدا! تیری تقدیر ہم سے اچانک مشکل کاموں کا سامنانہ کرا دے، جو ہماری وسعت میں تو ہیں لیکن ہم نے اپنی غفلتوں کے نتیجہ میں ابھی تک حاصل نہیں کئے۔یہاں یہ مضمون پھر دوشاخہ مضمون بن جاتا ہے۔اس لئے تحمل اور غور سے ہمیں آگے بڑھنا پڑے گا۔خدا تعالی وسعت اور طاقت کے مطابق بوجھ ڈالتا ہے، یہ درست ہے۔اور خدا تعالیٰ سے ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ ہماری طاقتوں سے بڑھ کر ہم پر بوجھ نہ ڈال۔لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری طاقتیں اور ہماری وسعتیں ایک منزل پر اکٹھی ہو جائیں۔اگر ہم نے ذمہ داری ادا کی ہو تو ہمیں اس وقت اپنی وسعتوں کے اندر رہتے ہوئے ایک خاص طاقت لینی چاہئے۔یہ بھی تو ایک واقعہ ہے، جو انسانی زندگی میں گزرتا ہے۔اس کو مزید سمجھانے کی خاطر میں مثال دیتا ہوں کہ ایک انسان اگر دوڑنا شروع کرے اور اپنی طاقتوں 512