تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 506
خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اگست 1983 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وَسْعَهَا پس اس پہلو سے اس میں ایک بڑی بھاری تبشیر ملتی ہے اور وہ ذمہ داریاں ، جو خدا ڈالتا ہے، ان کے متعلق تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے اہل ہیں۔تبشیر کا یہ پہلو جب انسان کو مزید غور پر متوجہ کرتا ہے تو پھر ایک خوف کا اثر آہستہ آہستہ غالب آنے لگتا ہے۔مثلاً جماعت احمدیہ ہے۔جماعت احمدیہ کی ذمہ داری کیا ہے، جو خدا تعالیٰ نے ڈالی ہے؟ تمام دنیا کو مسلمان بنانا، تمام ادیان باطلہ پر اسلام کو غالب کرنا اور اس انسان کی تقدیر کو بدل دینا۔جس کے متعلق خدا فرماتا ہے:۔وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ زمانہ کی قسم زمانہ گواہ ہے کہ یہ انسان لازما گھانا کھانے والا ہے۔اپنے سود و زیاں کا تو انسان کو پورا ہوش نہیں ہوتا۔سارے زمانہ کے زباں کو سود میں بدل دینا، سارے نقصان کو فائدہ میں تبدیل کر دینا، یہ ذمہ داری ہے، جو ہم پر ڈالی گئی ہے۔ایک طرف یہ آیت تبشیر بھی کر رہی ہے، دوسری طرف جب انسان اپنی کمزوریوں پر نگاہ ڈالتا ہے یعنی بے بسی اور بے اختیاری کو دیکھتا ہے، کام کے بے شمار ہجوم نظر آتے ہیں اور دنیا کا واقعاتی جائزہ لیتا ہے تو انسان سمجھتا ہے، میں اس کا بالکل اہل نہیں ہوں۔مجھ میں کہاں طاقت ہے کہ میں کسی ایک ملک کو بھی بدل سکوں۔صرف ایک ہندوستان پر ہی اگر جماعت احمد یہ اپنی تمام توجہ مبذول کر دے تو جہاں تک دنیا کے حالات کا تعلق ہے اور جہاں تک ہمارے ذرائع کا تعلق ہے، ہم ایک صوبے کے ہندوؤں کو بھی بظاہر مسلمان بنانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔پھر آپ دنیا کی وسعتوں پر نظر ڈالیں ، کتنے بڑے بڑے وسیع ممالک ہیں، جود ہر یہ ہو چکے ہیں، وہ خداہی کو نہیں مانتے۔ہم ان کی زبانیں نہیں جانتے ، ان کے خیالات سے واقف نہیں ہیں، ان کی قومی عادات سے واقف نہیں ہیں، ان تک پہنچنے کی طاقت نہیں ہے، راہوں میں Barrier اور روکیں ہیں اور اس کے باوجود دل میں یہ یقین ہے کہ خدا سچ کہ رہا ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ہم پر جو بوجھ ڈالا ہے، وہ ہم اٹھانے کے اہل ہیں۔لیکن کیسے؟ اب آسٹریلیا کا سفر در پیش ہے اور اسی سلسلہ میں غور کرتے ہوئے میری توجہ مبذول ہوئی کہ آسٹریلیا ایک براعظم ہے، جس کو آج تک کسی غیر مذہب نے فتح نہیں کیا۔عیسائیت نے وہاں Aborigines میں کچھ نفوذ کیا۔لیکن جو عیسائی وہاں آباد ہوئے ، آج تک کسی نے ان کے قلوب کو فتح نہیں کیا۔اور ایک بڑی قوم ہے۔ایک بہت بڑا پھیلا ہوا براعظم 506