تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 505
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اگست 1983ء میں طاقت کے مطابق بوجھ ڈالتا ہوں یا طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔اشتراکیت کا ایک نعرہ ہے کہ ہر شخص کو اس کی ضرورت کے مطابق دو اور اس کی طاقت کے مطابق اس سے کام لو۔یہ دونوں نعرے اسی پہلو سے کھو کھلے ہیں کہ ہر انسان کا مزاج، اس کی اندرونی کیفیات، اس کا ماحول، اس کے ماں باپ کے مزاج کے اثرات، اس کی اپنے بعض کمزور یا بعض مضبوط پہلو، یہ سارے مل کر اس کی ایک شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں۔اور یہ جو شخصی تعمیر ہے، یہ ضرورت کا فیصلہ کرتی ہے کہ اس کی ضرورت کیا ہے؟ اور انسان کے لیئے ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی دوسرے انسان کی ضرورت کی تعیین کر سکے۔صرف خدا کے لئے ممکن ہے۔اور اسی طرح جب کہتے ہیں کہ طاقت کے مطابق کام لوتو ہر ایک کی طاقت کا فیصلہ کرنا ہر ایک کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔مختلف مزاج کے لوگ ہیں، ان کے مختلف حالات ہیں، بعض اندرونی کمزوریاں ہیں ، بعض دفعہ انسان کہتا ہے کہ مجھے بڑی سخت کمزوری ہو گئی ہے اور دوسرا آدمی کہتا ہے کہ بکواس کر رہا ہے ، جھوٹ بولتا ہے، بہانے کر رہا ہے، اس کو ہرگز کوئی کمزوری نہیں، اس کے اوپر بوجھ ڈالنا چاہئے۔اب ہوسکتا ہے، کوئی اسے ظالم سمجھے۔لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی وسعت میں ہی نہیں ہے کہ وہ دوسرے کو سمجھ سکے اور اس نے ایک اندازہ لگایا ہے۔وہ اپنی جگہ بے اختیار ہے، یہ اپنی جگہ بے اختیار ہے۔انسان کے حالات اندرونی طور پر بہت مختلف ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک معقول آدمی سارے علم کے باوجود بھی دوسرے آدمی کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔چنانچہ ایک پاگل کے متعلق ذکر آتا ہے کہ اس کو یہ وہم تھا کہ وہ شیشے کا ہو چکا ہے اور لوگوں سے کہا کرتا تھا کہ مجھے زور سے ہاتھ نہ لگانا، میں ٹوٹ جاؤں گا۔اور بہت ہی احتیاط سے اور ملائمت کے ساتھ گدے وغیرہ رکھ کر چیزوں پر بیٹھتا تھا اور ہر طرح سے اپنا خیال رکھتا تھا کہ میں کسی دن ٹوٹ نہ جاؤں۔ایک ماہر نفسیات کے پاس اسے لے جایا گیا اور ماہر نفسیات یہ سمجھتے تھے کہ ہمیں پتہ ہے، یہ سب بکواس ہے، انسان کہاں ٹوٹ سکتا ہے؟ چنانچہ انہوں نے اس کا یہ علاج سوچا کہ اچانک بہت زور سے اس کو تھپڑ مارا، یہ ثابت کرنے کے لئے کہ دیکھو، تم نہیں ٹوٹ گئے، تمہیں اپنے آپ پر اعتماد ہونا چاہئے۔لیکن اس کی اندرونی کیفیت اتنی نازک ہو چکی تھی کہ اس کے منہ سے چھن چھن کی آواز نکلی اور وہ و ہیں حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے گر کر مر گیا۔اس کو اتنا یقین تھا کہ میں شیشے کا ہوں کہ اس یقین کے احساس نے اس کا دل بند کر دیا۔پس انسانی حالات کے مختلف تقاضے ہیں، جن میں باریک فرق ہیں کہ کوئی دوسرا انسان خواہ کسی فن کا ماہر کیوں نہ ہو، نہ اس کی وسعتوں کا پتہ کر سکتا ہے اور نہ اس کی ضرورتوں کا اندازہ کر سکتا ہے۔صرف اللہ ہی ہے، جو یہ کہہ سکتا ہے کہ 505