تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 504
خطبہ جمعہ فرمودہ 26 اگست 1983ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ششم کے تقاضے پورے کر سکتا ہے، جو بحیثیت زمیندار اسے پورے کرنے چاہئیں۔اور اگر وہ اہلیت رکھتا بھی ہو تو بہت سی چیزیں اس کے اختیار میں نہیں ہیں اور بے بس ہو جاتا ہے۔ایک مزدور اپنی مزدوری کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا تعمیراتی کام کا ایک نگران تعمیر کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا، غرض یہ کہ اس سے بحث نہیں کہ کسی پر کتنی بڑی ذمہ داری ڈالی گئی یا کتنی چھوٹی ؟ انسان ایک بے بس چیز ہے، بے اختیار چیز ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ ہر ذمہ داری، جو انسان پر ڈالی جاتی ہے، وہ اسے طاقت سے بڑھ کر معلوم ہوتی ہے۔دل میں خوف پیدا ہوتا ہے اور انسان سوچتا ہے کہ یہ ذمہ داری کیسے ادا کروں گا ؟ دوسری طرف قرآن کریم کی اس آیت پر نظر پڑتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک عظیم الشان خوشخبری دی جارہی ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کہ اللہ تو کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا اور اس کی انسان کے پاتال تک نظر ہے۔وہ اپنی ہر تخلیق کی کہنہ تک واقف ہے، اپنی ہر تخلیق کی کمزوریوں سے بھی واقف ہے اور اس کے ان پہلوؤں سے بھی واقف ہے، جو بطور خوبیاں ودیعت کی گئیں۔ان دونوں پہلوؤں پر جس علیم و خبیر ہستی کی نظر ہو، اگر وہ یہ کہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اللہ کی نفس پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا تو یہ ایک عظیم الشان خوشخبری ہے۔اور گویا یہ پیغام ہے کہ تمہیں بوجھ زیادہ نظر آرہے ہیں، حقیقت میں زیادہ بوجھ نہیں تمہاری وسعت کے مطابق ہیں۔یہاں ایک فرق کرنا ضروری ہے ، ورنہ احباب کے ذہن میں مضمون الجھ جائے گا۔فرق یہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ انسان دوسرے انسان پر طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔یہ بھی نہیں فرمایا کہ انسان اپنے او پر اپنی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔کیونکہ یہ دونوں واقعات دنیا میں ہمیں روزانہ دکھائی دیتے ہیں۔بسا اوقات انسان دوسرے انسانوں پر ان کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ ان بوجھوں تلے ٹوٹ جاتے ہیں اور تب بھی کام کا حق ادا نہیں کر سکتے۔بعض اوقات انسان اپنی جان پر اپنی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈال لیتا ہے۔یہاں اس عام انسانی کیفیت اور حالات کا ذکر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ پنے متعلق فرماتا ہے کہ میں کسی انسان پر یا کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔وہ انسان جو دوسروں پر طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالنا نہیں چاہتے اور یہ ادعا کرتے ہیں کہ ہم طاقت کے مطابق بوجھ ڈالتے ہیں، وہ بھی دراصل اپنے ادعا میں خام ہوتے ہیں، ان کے دعوی کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔کیونکہ جب تک کوئی یہ جائزہ لینے کا اہل نہ ہو کہ اس کی طاقت کیا ہے؟ اس وقت تک وہ یہ دعوی کر ہی نہیں سکتا کہ 504