تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 433
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 15 اپریل 1983ء قائم کرتا ہے، اس میں بھی جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ سب سے آگے نکلنا ہوگا۔چنانچہ اس مقصد کے لئے فی الحال تحریک جدید میں ایک مرکزی سیل قائم کر دیا گیا ہے اور انشاء اللہ صد را مجمن احمدیہ میں بھی قائم کیا جائے گا۔پھر وہ مشترکہ طور پر اس بات پر غور کریں کہ تمام دنیا کے احمدی صنعت کاروں کے دماغ سے کس طرح استفادہ کیا جائے، تمام دنیا کے احمدی تاجروں کے دماغ سے کس طرح استفادہ کیا جائے اور تمام دنیا کے احمدی سائنسدانوں کو اس طرف متوجہ کیا جائے کہ وہ صرف نظریاتی طور پر سائنسدان نہ رہیں بلکہ ایسے فعال، سوچنے والے اور ہر وقت نئی چیزوں کی ایجاد میں منہمک سائنسدان بنیں۔جن کی قوت فکر کو جماعت احمدیہ قوت عمل میں ڈھالے اور ان کی ایجادات سے استفادہ کرے۔اور جس طرح بعض قو میں مثلاً جاپانی اپنے اعلیٰ اور لطیف فکر اور پھر اس فکر کے نتیجے میں اعلی صنعتیں پیدا کرنے کے لحاظ سے مشہور ہیں یا امریکن یا یورپ کی دوسری قو میں جیسے جرمنی ہے، جو خاص طور پر ان صنعتوں میں آگے نکل آئی ہیں، اسی طرح جماعت احمدیہ کے سائنسدان بھی احمدی سائنسدان کے لحاظ سے دنیا میں ایک نام پیدا کریں۔احمدی ایجادات پر احمدیت کی ایسی چھاپ ہو، جس سے معلوم ہو کہ یہ چیز لازماً اپنی نوع میں بہترین ہے۔لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے دیانتداری کی بھی بہت ضرورت ہوا کرتی ہے۔کیونکہ سائنسدان تو ایک ایجاد پیش کر دیتا ہے لیکن اگر صنعت کار دیانتدار نہ ہو تو وہ اس ایجاد کو ضائع بھی کر سکتا ہے اور اس کا وقار کھو بھی سکتا ہے۔اور اپنی دیانتداری کی وجہ سے اس کا وقار بھی قائم کر سکتا ہے اور آگے بھی بڑھا سکتا ہے۔لیکن دیانتداری صرف اس میدان میں ہی ضروری نہیں بلکہ ہر دوسرے میدان میں بھی ضروری ہے۔کیونکہ دیانتداری کے بغیر کوئی انسان کسی چیز میں بھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔یہ کھیل میں بھی ضروری ہے اور تجارت میں بھی ضروری ہے۔اس لئے احمدی تجار کو بھی اور احمدی صنعت کاروں کو بھی اور احمدی سائنسدانوں کو بھی بلکہ ہر میدان میں آگے بڑھنے کا ارادہ رکھنے والوں کو بھی لازماً اپنی دیانت کے معیار کو بڑھانا ہوگا“۔پس جب میں جماعت احمدیہ سے کہتا ہوں کہ وہ صنعت میں بھی سب سے آگے نکل جائے اور تجارت میں بھی سب سے آگے نکل جائے اور اس مقصد کے لئے مرکز میں ایسے سیل قائم کئے جائیں، جہاں ان سب کے تبادلہ خیالات کے لئے ایک مرکز قائم ہو اور ایک دوسرے سے استفادہ کا نظام قائم ہو تو یہ ہو نہیں سکتا، جب تک جماعت کے دیانت کے معیار کو بھی اونچانہ کیا جائے۔اس لئے ہمارے سارے تجار کو چاہئے کہ وہ لازماً ایک Devotion کے ساتھ، ایک وقف کی روح کے ساتھ اپنی دیانت کے معیار کو بلند کریں۔اسی طرح تمام صنعتکاروں کو بھی چاہئے کہ اسی روح کے ساتھ صنعت میں اپنی دیانت کے معیار کو بلند کریں۔433