تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 434 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 434

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 15 اپریل 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم امر واقعہ یہ ہے کہ اگر ہم قرآنی ارشاد فاستبقوا الخیرات کو ملحوظ رکھتے ہوئے محض اللہ ایسا کریں گے، اگر ہمارا مقصود یہ ہوگا کہ اللہ کے حکم کے تابع ہم نے اسلام کا جھنڈا بلند کرنا ہے تو یہ درست ہے کہ ہماری صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا، ہماری تجارتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا، ہماری طبابت کو بھی فائدہ پہنچے گا اور ہماری اقتصادیات کا ہر شعبہ اس سے فائدہ اٹھائے گا۔لیکن سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ ہم سے راضی ہوگا، اللہ کی طرف سے ہماری کوشش کو بہت برکت کے پھل لگیں گے اور جب انسانی محنت کے ساتھ اللہ کی رحمت شامل ہو جاتی ہے تو پھر دنیا کی کوئی قوم ایسے لوگوں کو شکست نہیں دے سکتی۔یہ ایک ایسا عنصر ہے، جو آپ کو دنیا کی تجارتوں میں بھی نظر نہیں آتا صنعتوں میں بھی نظر نہیں آتا اور یہ علم طب میں بھی نہیں پایا جاتا۔یہ صرف اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان غلاموں کو عطا ہوگا ، جو خدا کی خاطر کام کرتے ہیں اور پھر دعاؤں کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہتے ہیں۔ان کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ غیر معمولی برکتیں عطا فرماتا ہے۔یہ ہمارا روز مرہ کا تجربہ ہے لیکن دنیا کے عام انسان اس کو سمجھ نہیں سکتے۔مثلاً ہمارے طبیب اور ڈاکٹر جو افریقہ میں کام کر رہے ہیں، وہ بکثرت ایسے واقعات پیش کرتے رہتے ہیں کہ بظاہر دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں کے پڑھے ہوئے بہت بہتر طبیب موجود تھے، بظاہر ان کے ہسپتالوں سے بہت بہتر ہسپتال بھی موجود تھے، جن پر حکومتوں کا کروڑ ہاروپیہ خرچ ہورہا تھا، اس کے باوجود بڑی چوٹی کے مریض ، جن کو حکومت کے کارندے ہونے کے لحاظ سے وہاں مفت علاج میسر آ سکتا تھا، وہ ان ہسپتالوں کو چھوڑ کر احمدی ہسپتالوں کی طرف مائل ہوئے۔وہ اعلیٰ ہسپتالوں کو چھوڑ کر ایک چھوٹی سی کٹیا میں آگئے ، جہاں ایک میز پڑی ہوتی تھی، جہاں پوری طرح اوزار بھی مہیا نہیں تھے، جہاں پوری طرح روشنی کا انتظام بھی نہیں تھا اور پوری طرح Disinfect کرنے کا انتظام بھی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم احمدی ڈاکٹروں سے آپریشن کروائیں گے اور دوسرے ہسپتالوں میں نہیں کروائیں گے۔چنانچہ انہوں نے ایسی نوعیت کے کامیاب آپریشن کروائے، جن میں زندگی اور موت ایک بہت ہی باریک دھاگے کے درمیان لٹکی رہتی ہے۔بعض دفعہ ہمارے ڈاکٹروں نے تعجب سے پوچھا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمیں یہ پتہ ہے کہ دنیاوی و جاہت اور دنیاوی سامان تو دوسرے ہسپتالوں میں ہیں لیکن شفا آپ کے پاس ہے۔کیونکہ ہمیں یہی پتہ لگتا ہے کہ جتنے مریض آپ کے پاس آتے ہیں، وہ اللہ کے فضل سے شفا پا جاتے ہیں لیکن دوسرے ہسپتالوں میں شفا کا یہ معیار نہیں ہے۔اگر ظاہری اسباب کو دنیا کے کمپیوٹر میں ڈالا جائے تو یہ نتیجہ نہیں نکلنا چاہئے۔یہ نتیجہ اس لئے نکلتا ہے کہ ہمارے ہاں اللہ کی رضا کا عصر داخل ہو جاتا ہے۔نیتیں نیک اور پاک ہیں، ان کے اندر خلوص ہے، 434