تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 426 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 426

ارشادات فرمودہ 03 اپریل 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک فضل سے جاری وساری ہو اور ادھر سے بھی کوششیں ہوں تو ہمیں بہت جلد اس ٹارگٹ تک پہنچنا چاہیے۔وباللہ التوفیق۔اسسٹنٹ سیکرٹری کا لفظ صرف پاکستان کے لئے ہے۔وہ اس لئے کہ جو ہمارا دستور ہے، اس میں غالباً ایک ہی سیکریٹری مال کا ذکر ہے۔تو اس میں نائب کے اضافہ کی تو گنجائش رہتی ہے۔ورنہ دستور بدلنا پڑے گا۔جہاں تک بیرون پاکستان کا تعلق ہے، وہاں ایڈیشنل کے نام پر نئے سیکرٹریان مال مقرر کئے جا رہے ہیں اور اب تک غالباً اکثر مقرر ہو چکے ہیں۔تو اس غرض کے لئے اگر کہیں پہلے اسسٹنٹ سیکرٹری مال مقرر ہو چکے ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ باقی سب جماعتوں میں بھی مقرر ہونے چاہئیں۔33 یہ بھی بات بیان ہوئی ہے کہ اگر چہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اکثر احمدی جو باہر گئے ہیں، وہ نظام کا حصہ بن گئے ہیں۔مگر بعض دفعہ لاعلمی کے نتیجہ میں ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ کس سے رابطہ پیدا کرنا ہے۔چنانچہ ایسے ممالک، جہاں ہمیں خیال بھی نہیں تھا کہ وہاں پوری جماعت بن بھی سکتی ہے، وہ اس طرح علم ہوا کہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " کے وصال پر تجدید بیعت ہوئی اور باہر سے بکثرت تعزیت کے خطوط آئے تو ہمیں معلوم ہوا کہ فرانس اور یونان میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی تعداد احمدیوں کی موجود ہے، جو باقاعدہ جماعت بن سکتے ہیں۔تو ان معلومات سے فائدہ اٹھا کر جماعتیں قائم کی گئیں ہیں۔لیکن ابھی بھی بعض ایسے آدمی علم میں آرہے ہیں کہ جو بہت بعد میں دریافت ہوئے۔تحریک جدید کی خواہش ہے کہ ( اس معاملہ میں ایک اعلان بھی غالباً الفضل میں شائع ہوا تھا کہ ) تمام پاکستان میں بسنے والے وہ ماں باپ، جن کی اولادیں باہر کام کر رہی ہیں، ان کی حفاظت کی خاطر اور ان کو نظام جماعت کا ایک جاری حصہ بنانے کے لئے وہ تحریک جدید کو پتہ جات ارسال فرمائیں کہ میرا بچہ فلاں جگہ ہے، اس کا پتہ یہ ہے۔تو جو پہلے ہی ریکارڈ میں ہیں، وہ فہرست چیک کر لیں گے۔وہ تو خیر کوئی اضافہ نہیں ہو گا لیکن اگر کوئی گمشدہ بھیٹر مسیح موعود علیہ السلام کی مل جائے تو اسے ملنا چاہئے۔گم شدہ بھیڑ نہیں، اللہ کے فضل سے گمشدہ شیر کہنا چاہیے۔وجہ یہ ہے کہ حضرت خلیفة المسیح الثالث نے اس کی اجازت دی تھی کیونکہ ایک لمبے عرصہ تک اس حکم کی پابندی میں بھی ساری تبدیلیاں پیدا ہوئیں معاشرہ میں اور زندگی کے معیار بدلے۔تو یہ بات حضرت خلیفة المسیح الثالث کے سامنے کئی دفعہ پیش کی گئی کہ بیاہ اور موت فوت میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے۔یعنی بالکل ہی ویسی ہی خاموشی طاری ہو، جیسی کسی کے فوت ہونے پر اور کچھ بھی وو 66 426