تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 424 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 424

ارشادات فرمودہ 103 اپریل 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم دوسرے اگر یہ ثابت بھی ہو جائے تو آمدنی per capita کو بھی دیکھا جائے گا اور اس سے بھی زمین و آسمان کا فرق پڑ جاتا ہے۔وہ چند آدمی ، جنہوں نے پاکستان کو چھوڑ کر دوسری جگہ دنیا میں ذرائع آمد تلاش کئے ، ان کے خاندانوں کے سارے افراد جو پیچھے رہ گئے ہیں، اس کے مقابل پر اس ایک ایک فرد کی آمد بعض صورتوں میں زیادہ ہے۔تو اس لئے یہ حسابات اس طرح نہیں کئے جا سکتے کہ بیرون ملک اور اندرون ملک تعداد برابر ہو جائے، تبھی برابر نتیجہ نکلنا چاہیے۔اقتصادی حالات مختلف ہیں۔اس لحاظ سے ابھی بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت پاکستان کی قربانی کا معیار زیادہ اونچا ہے، بہ نسبت اس معیار کے، جو اس وقت تک بیرون پاکستان حاصل کیا گیا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا، وہ اور بھی بہت ساری خامیوں میں مبتلا تھے۔مثلاً با شرح چندہ دینے میں بیرون پاکستان بہت ہی پیچھے رہ گیا تھا۔اب وہ اس طرف بھی توجہ کر رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی نمایاں قربانی میں اضافہ ہورہا ہے۔اس لئے ان پر بھی ایک دم تو بوجھ نہیں ڈالا جاسکتا۔ان چند مہینوں کے اندر اندر کی اطلاع یہ ہے کہ تحریک جدید کا باہر کا چندہ تین گنا بڑھ گیا ہے اور چندہ عام اور حصہ وصیت پونے دو گنا ہو چکا ہے۔تو یہ ایک طرف تو ہمارے دل حمد سے بھر جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بیرون پاکستان کی دنیاؤں کو غیر معمولی توفیق عطا فرمائی کہ وہ معیار قربانی بلند کریں ، دوسری طرف ہم پر امید نگاہ سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ کب وہ کم از کم معیار پر پورے اتریں گے۔یعنی ابھی ان کی ایک بھاری تعداد ایسی ہے، جو چندوں میں تو قعات پر پورا نہیں اتر سکی۔ابھی تک بھاری تعداد تو نہیں ہوئی ہوگی مگر میرا خیال ہے کہ کم از کم 33 فیصد تو ضرور ایسے ہوں گے، جو نہیں آسکے۔اور ایک حصہ وہ بھی ہے، جو چندوں میں شامل ہی نہیں ہے۔اسی طرح پاکستان میں بھی ایک حصہ ہے، جو چندوں میں شامل نہیں ہے۔اس سے متعلق میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ جو لازمی چندوں میں شامل نہ ہوں، انہیں ہم طوعی چندوں میں شامل نہیں کریں گے اور وہ چندہ ہمیں نہیں چاہیے۔سوائے اس کے کہ کوئی دے تو ہم اس کی اجازت سے اسے لازمی چندہ میں داخل کر لیں۔فرض کے بغیر نفل نہیں ہو سکتے۔ناک نقشہ ہو تو سنگھار ہوگا ، ناک نقشہ ہی نہ ہو تو سنگھار کوئی کیا کرے گا۔یعنی آنکھیں ہیں ہی نہیں اور سرمہ ڈالے جارہے ہیں۔ناک ہے ہی نہیں، ناک کی تیلی تلاش کی جارہی ہے۔یہ سارے لغو قصے ہیں۔اس لئے جماعت کے بنیادی نقوش ہمارے لئے سب سے اہم توجہ کا مرکز ہونے چاہئیں۔جب وہ نقوش صحیح حالات پر بیٹھ جائیں ، پھر دوسرے نفلی کام شروع ہوں گے۔پس اس ضمن میں ایک یہ بھی میں توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ اب ہمیں سیکرٹریان مال کے ساتھ ایک نائب سیکرٹری کا اضافہ کرنا ہوگا۔جس کا کام صرف یہ ہوگا کہ نادہندوں کو 424