تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 385
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطبہ جمعہ فرمودہ 28 جنوری 1983ء کریں گے، نہ محض اموال اس سودے کی شرط کو پورا کریں گے۔پس ایسے لوگ ، جو عمل صالح کے دعویدار ہوں، اگر ان دونوں چیزوں میں سے ایک کی بھی کمی آگئی تو ان کے عمل صالح میں نقص پڑ جائے گا اور اسی نسبت سے ان کی دعوت الی اللہ میں بھی نقص پیدا ہو جائے گا۔جہاں تک مالی قربانی کا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمد یہ تمام دنیا کی جماعتوں میں، خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں یا کسی سیاست سے تعلق رکھتی ہوں، ایک نمایاں امتیاز کے ساتھ پیش پیش ہے۔جہاں تک نفوس کی قربانی کا تعلق ہے، بلاشبہ اس پہلو سے بھی جماعت احمد یہ دنیا کی دوسری جماعتوں سے آگے ہے۔اگر چہ دوسری جماعتوں کی قربانی کے معیار مختلف ہیں لیکن ہماری قربانی کے معیاران سے بالکل مختلف اور بلند تر ہیں اور اتنے بلند ہیں کہ ان کی قربانی کے معیار کے مقابل پر ہماری قربانی کے معیار کو وہی نسبت ہے، جو زمین کو آسمان سے ہوسکتی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر مومن سے سودا کیا ہے۔وہ ایک جماعت کے چند لنفوس پر راضی نہیں ہوتا، چند بلانے والوں پر راضی نہیں ہے بلکہ مسلمان کی تعریف میں اس بات کو داخل فرما دیا کہ اگر تم مسلمان ہو تو تمہیں لازماً خدا کی طرف بلانا پڑے گا اور تمہیں اپنے اسلام کو چھپانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اگر تم اسلام کو چھپا کر خدا کی طرف بلاؤ گے تو خدا کے نزدیک تمہارا یہ قول قول حسن نہیں رہے گا۔پس اسلام کی قربانی کا معیار تو اتنا بلند اور اتنا وسیع ہے کہ ایک فرد بشر میں جو اپنے آپ کو ان لوگوں میں داخل کرنا چاہے، جن کا قول خدا کے نزدیک حسین ہو جایا کرتا ہے، اسے قربانی کے دونوں معیار پر پورا اتر نا چاہیئے۔یعنی مالی قربانی کے لحاظ سے بھی عمل صالح ہو اور نفس کی قربانی کے لحاظ سے بھی عمل صالح ہو۔اس سے یہ ثابت ہوا کہ ہر مسلمان کے لئے نفس کی قربانی لازمی ہے اور دعوت الی اللہ بھی لازمی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر انسان اپنے دوسرے کاموں میں مشغول اور اپنی زندگی کی بقا کی جدو جہد میں مبتلا ہوتے ہوئے اپنا سارا نفس کس طرح خدا کے حضور پیش کر سکتا ہے؟ تو اس سلسلہ میں قرآن کریم نے مختلف مواقع پر مختلف قسم کے گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کچھ سابقون ہیں، کچھ درمیانے درجہ کے لوگ ہیں، کچھ نسبتا پیچھے رہنے والے لوگ ہیں۔کچھ تیز قدموں سے چلنے والے لوگ ہیں، کچھ درمیانے درجہ کے لوگ ہیں، کچھ نسبتا آہستہ چلنے والے لوگ ہیں۔غرض قرآن کریم نے مختلف قسم کے انسان اور ان کی قربانی کا ذکر کر کے یہ باور کرا دیا ہے کہ ہر نفس کو کسی نہ کسی رنگ میں یہ بہر حال پیش کرتی ہو گی۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو اپنا سارانفس جماعت کے سامنے پیش کر کے دعوت الی اللہ کرتے ہیں اور 385