تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 380
خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ششم پہلے حکم میں محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری حکم کو بدل دے۔خدا کی قسم مدینہ کی گلیوں میں اگر عورتوں اور بچوں کی لاشوں کو درندے گھسیٹتے پھریں، تب بھی یہ شکر جائے گا اور ضرور جائے گا اور لازما جائے گا۔پس لوگ ہماری قبریں اکھاڑیں، جو مرضی کریں۔ہمارے قافلے تو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے ضرور جائیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ قبریں اور یہ عارضی جسم کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتے۔دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کس مقصد کے لئے قبریں اکھاڑی جاتی ہیں؟ اور ہم کس مقصد کے لئے قربانیاں کر رہے ہیں؟ یہ وہ اصل بات ہے، جو اپنے اندر ایک حقیقت رکھتی ہے اور غور کے لائق ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک صحابی حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) جب شہید کئے جانے لگے تو تلوار چلنے سے پہلے انہوں نے یہ شعر پڑھے جو ہمیشہ کے لئے ہمارے لئے مشعل راہ اور زندگی کا پیغام ہیں۔انہوں نے شہادت سے پہلے یہ شعر پڑھا:۔فلست ابالي حين اقتل مسلماً علی ای شی کان لله مصرعی وذلك فى ذات الاله وأن يشاء يبارك على اوصال شلو ممزعی کہ مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ جب میں خدا کی خاطر مارا جارہا ہوں اور خدا کے نام پر مارا جا رہا ہوں تو جب میر اسر کئے گا تو میں کس کروٹ پر گروں گا۔کسی کروٹ پر بھی میری لاش گرے اور اس سے کیسا ہی سلوک کیا جائے۔خدا کی قسم وہ ذات جس کی خاطر میں قربانی دے رہا ہوں، اگر وہ چاہے تو میرے جسم کے ذرہ ذرہ پر رحمتوں کی بارش بر سادے اور میرے کٹے پھٹے جسم کے ٹکڑوں کو برکتوں سے بھر دے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ 1974ء میں آپ کی پیشکش کے باوجود آپ کو موقع دیئے جانے کے باوجود آپ کو غیر مسلم کیوں قرار دیا گیا؟ تو یہ ایک بنیادی سوال ہے، جس پر غور کرنا چاہیے۔میں اہل علم اور اہل عقل کو اس پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہوں کہ کیا دنیا میں کسی مذہب کی تقدیر کا فیصلہ اکثریت اور اقلیت کے ذریعہ پہلے کبھی ہوا ہے۔قرآن کریم کی تاریخ کو لے لیجئے ، جو سب سے زیادہ یقینی اور قطعی تاریخ ہے۔اس تاریخ سے کوئی ایک واقعہ نکال کر دکھلا دیجئے کہ اکثریت کے فیصلے کو قرآن کریم نے تسلیم کر لیا ہو۔ہر موقع پر قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہ اکثریت نے اقلیت کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔مثلاً حضرت نوح کی اقلیت تھی۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان کی قوم ، ایک متمدن قوم تھی۔جس زمانہ میں حضرت نوح مبعوث ہوئے ہیں، تمدن کی اونچی لہر آئی ہوئی تھی۔civilization ( سویلائزیشن) کا ایک خاص زمانہ تھا۔تب 380