تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 363 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 363

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء چنانچہ ہمارے اس وقت کے امام حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے قادیان میں ایک خطبہ میں سپین کی یادوں کو اس طرح زندہ کیا کہ سننے والوں کے دل خون ہو گئے۔آپ نے اس درد کے ساتھ قربانی کرنے والوں کو پکارا کہ ہر دل بے قرار تھا کہ کاش مجھے اس بات پر مامور کیا جائے کہ میں اسلام کے لئے اس سرزمین کو دوبارہ فتح کروں۔آپ نے موسیٰ کی یاد دلائی۔یہ وہ آخری جرنیل تھا، جو بد قسمت ابو عبد اللہ کی سرکردگی میں غرناطہ کا آخری محافظ جرنیل کہلا سکتا ہے۔جب ابو عبد اللہ نے فیصلہ کیا کہ غرناطہ کی چابیاں عیسائیوں کے سپرد کر دی جائیں گی تو اس نے کہا کہ ٹھیک ہے، تم یہ چابیاں ان کے سپرد کر دو مگر مجھے اجازت دو کہ میں اس شہر میں اب نہ رہوں اور مجھے باہر نکلنے کے لئے اتنا موقع دو کہ گیٹ کھول دیئے جائیں اور پھر میں واپس کبھی نہیں آؤں گا۔وہ ہتھیاروں سے لیس ہوا، زرہ بکتر پہنی اور تن تنہا عیسائی فوج پر پل پڑا۔اس نے کب تک لڑائی کی اور کتنے قتل کئے؟ یہ بحث بے تعلق ہے۔لیکن عیسائی مؤرخ لکھتے ہیں کہ جب تک اس کے دم میں دم تھا، وہ لڑ تا رہا۔جب اس کے گھوڑے کا دم ٹوٹ گیا تو وہ زمین پر گر پڑا تو گھٹنوں کے بل کھڑا چاروں طرف سے حملہ آور عیسائیوں کا مقابلہ کرتا رہا۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل کی ایک دعا تھی کہ اے خدا! میں آخری مسلمان ہوں، جو اس سرزمین پر تیرے نام کی خاطر اپنے خون کا آخری قطرہ بہانے کے لئے نکلا ہوں۔تو مجھے ان ظالموں کے ہاتھ میں نہ دینا۔یہ ناپاک ہاتھ میرے جسم کو نہ لگیں۔چنانچہ مورخ لکھتے ہیں کہ وہ اس حال میں لڑتا اور سرکتا ہوا، اس شوریدہ پہاڑی کے نالے کے کنارے تک پہنچ گیا، جس سے بیچ نکلنا بظاہرممکن نہیں تھا۔ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس نے خود کشی کی۔کیونکہ کہا یہ جاتا ہے کہ اس نے تیر کر اس کو پار کرنے کی کوشش کی لیکن ہمیشہ کے لیے اس نالے کی موجوں کی نذر ہو گیا۔حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بڑے درد کے ساتھ اور بڑے قرب کے ساتھ اس واقعہ کی یاد دلائی اور اپنے ماننے والوں کو پکارا کہ چین کی سرزمین تمہیں قربانیوں کی طرف بلاتی ہے۔طارق کی داستان تو پرانی ہوگئی مگر موسیٰ کے خون کا ایک ایک قطرہ تمہیں اپنی طرف بلا رہا ہے۔کون ہے، جو اس آواز پر لبیک کہے ؟ اور کون ہے، جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو دوبارہ اس سر زمین پر بلند کرنے کے لئے اپنے سر دھڑ کی بازی لگانے کے لئے تیار ہو۔اس زمانہ میں واقفین کی ایک بہت بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔اب تو اس میں اور بھی زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔لیکن اس وقت تک سینکڑوں ایسے نوجوان تھے ، جنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی زندگیاں خدمت اسلام کے لیے وقف کر دی تھیں۔صرف پین کا سوال نہیں تھا بلکہ یورپ اور افریقہ اور دیگر ممالک کے لئے بھی مبلغین 363