تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 362
خطاب فرمودہ 15 جنوری 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک بتاتا ہے، کوئی کم بتاتا ہے۔لیکن ایسے ہی ایک واقعہ کے متعلق مسلمہ اعداد و شمار یہ ہے کہ ایک لاکھ، چالیس ہزار کا جو قافلہ روانہ ہوا تھا، اس میں سے ایک لاکھ تہ تیغ کر دیئے گئے اور بقیہ چالیس ہزار کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ سمندر کی موجوں نے بھی رحم کیا یا نہیں ؟ وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو سکے یا نہیں؟ یہ وہ بھیانک تاریخ ہے۔یعنی اس تاریخی عمل کا دوسرا پہلو ہے، جس کے متعلق میں نے یہ بتایا ہے کہ مذہب کے نام پر قائم ہونے والی حکومتیں جب مذہب سے عاری ہو جاتی ہیں یا جب تقویٰ سے عاری ہو جاتی ہیں تو انتہائی بھیانک اور خوفناک حکومت وجود میں آجاتی ہے۔چنانچہ اس کے متعلق مشہور مؤرخ لین پول یہ لکھتا ہے کہ ازابیلا کے دور میں جب مسلمانوں کا انخلا کر دیا گیا تو کچھ دیر تک عیسائی حکومت بظاہر ایک شان کے ساتھ چمکتی رہی اور اس میں دنیاوی ترقیات کے آثار بھی ہمیں ملتے ہیں۔لیکن آج جب ہم مڑکر ان واقعات کا تجزیہ کرتے ہیں اور بعد میں ظاہر ہونے والی تاریخ کے پس منظر میں اس کو دیکھتے ہیں تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ روشنی، ایک مستعار روشنی تھی۔اسلام کے غروب ہونے والے سورج نے جو روشنی پیچھے چھوڑی تھی ، وہ شام کے دھندلکوں میں رفتہ رفتہ غائب ہوتی چلی گئی۔اور پھر ایک ایسی رات نے سین کو گھیر لیا ، جس سے آج تک پین باہر نہیں نکل سکا۔وہ ملک، جو یورپ میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک تھا ، جس نے احیائے علوم کی بنیاد ڈالی تھی ، وہ اس زمانہ سے لے کر آج تک یورپ کا انتہائی پسماندہ ملک کہلاتا ہے۔تمام علوم وفنون اس کو چھوڑ گئے اور تمام رونق اور بہار اس کے چہرے سے اڑ گئی۔یہ وہ چین ہے، جب جماعت احمدیہ نے تبلیغ اسلام کی بنیاد ڈالی تو اس وقت اعلیٰ اخلاقی قدروں کا کوئی نشان دہاں نہیں ملتا تھا۔ہاں، وہ Institution ( انسٹی ٹیوشن) جو Inquisition ( انکیوزیشن ) کہلاتا تھا، اس کے آثار بھی زندہ تھے۔مذہبی منافرت کی اقدار ابھی تک وہاں اگر پوری طرح قائم نہیں تھیں تو اس نے نتیجہ میں پیدا ہونے والی نفرت بر سر عام مشاہدہ کی جاسکتی ہیں۔یہ میں 1945ء کی بات کر رہا ہوں۔اس وقت اگر چہ سپین میں ڈکٹیٹر شپ قائم تھی لیکن سب اہل بصیرت جانتے ہیں کہ اس ڈکٹیٹر شپ کے پس منظر میں ایک مضبوط عیسائی جتنا کام کر رہا تھا، بظاہر ایک آزادڈ کٹیٹر جنرل فرانکو کی حکومت قائم تھی لیکن ایک شعفہ کا بھی اس بات میں اختیار نہیں تھا کہ مذہبی معاملات میں اس جنتا کی رائے کو رد کر دے۔اس حالیہ تاریخ تک یعنی 1945ء کی تاریخ کے زمانہ تک بلکہ اس کے بعد تک حالت یہ تھی کہ رومن کیتھولزم کے سوا کسی اور فرقے کو وہاں تبلیغ کی اجازت تھی نہ اپنا گر جابنانے کی۔362