تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 338
ارشادات فرمودہ 30 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم شوری اور نظام اسلام کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں اگر اسی طرح بڑھتے رہتے تو بہت خطرناک نتائج پر منتج ہو سکتے تھے۔چنانچہ بعض Delegations نے جو یہاں تشریف لائے ، انفرادی ملاقات کا ان سے موقع ملا، انہوں نے کہا کہ یہ پہلا نمونہ جو شوری کا ہم نے دیکھا ہے، اپنے اپنے ملکوں میں اسی سے ہمیں خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی جلالی ہے اور اتنی روشنی عطا ہوئی ہے ذہن کو کہ اب ہم اپنے آپ کو احمدیت کے لئے پہلے سے زیادہ قربانی پر آمادہ پاتے ہیں۔تو آئیے ! اب ہم اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ، اس کا روائی کا آغاز کرتے ہیں۔اپنے فضل سے خدا تعالی برکت دے اور اس نظام کو مزید نشو ونما عطا فرما تار ہے اور ہمیں یہ توفیق نہ عطا کرے کہ اس کی مرضی کے خلاف ہم کوئی مشورہ دے سکیں یا کوئی مشورہ قبول کر سکیں۔وو پہلی تجویز : صد سالہ جو بلی سے قبل ایک سو ممالک میں تبلیغ اور جماعتوں کا قیام سب سے پہلے ایک ایسی تجویز ہے، جس کا تعلق صد سالہ جو بلی منانے سے ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا، ہمارا اصل جشن تو یہ ہے کہ خدا کے حضور تبلیغ اسلام کے تحائف پیش کریں۔اگر ان تحائف سے ہمارا دامن خالی رہا تو محض ربوہ کو سجانا یا گیٹ لگا نا تو اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔اس لئے 100 ممالک میں نئی جماعتیں قائم کرنے کا تحفہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ طور پر پیش کرنا ہے۔اس مقصد کے لئے وکالت تبشیر کو میں نے ہدایت دی تھی کہ اس مجلس شوری سے پہلے ساری دنیا کا جائزہ لے کر وہ ممالک تجویز کریں اور ان کو بعض ایسے ممالک کے ذمہ لگا ئیں، جہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعتیں قائم ہیں۔اور وہ اگر اس بارے میں کچھ کہنا چاہیں کہ کیا کیا ذرائع اختیار کر سکتے ہیں یا کئے جائیں گے؟ تو اس بارے میں ان کو موقع دیا جائے گا اور واپس جا کر پھر اپنے ملک میں بھی غور کریں اور پورا تفصیلی منصوبہ بنائیں کہ جو ممالک ہمارے ذمہ لگائے گئے ہیں، جلد سے جلد ہم ان میں اسلام کا جھنڈا اس مضبوطی کے ساتھ نصب کر دیں کہ مقامی مٹی سے پیدا ہونے والے لوگ مستقل وہاں کے باشندے ایک مستقل دانگی جماعت کی شکل اختیار کر جائیں“۔۔۔۔۔یه جور پورٹ آپ نے سنی ہے، اس میں ایک تو اعداد و شمار کی درستی ہونے والی ہے۔یہ جو 100 ممالک میں احمدیت کا جھنڈا گاڑنے کا پروگرام آپ کے سامنے رکھا گیا ہے، اس کا آغاز مجھ سے نہیں ہوا۔بلکہ میں نے خطبہ جمعہ میں بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بات بیان کی تھی کہ حضرت خلیفة المسيح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے جو صد سالہ جوبلی منانے کے لئے پلاننگ کمیشن بنایا تھا، اس میں ان امور پر غور ہوا اور یہ فیصلے ہوئے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی زندگی میں ہی ان کی منظوری ہو گئی تھی۔تنفیذ کے لحاظ سے یہ سکیم باقی پڑی تھی اور وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔Unfortunately جو قدم 338