تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 332
اقتباس از خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1982ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک ہے تو وہ لطیفہ لیکن یہاں وہ ضرور صادق آتا ہے۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک مراثی اور ایک چوہدری کو اکٹھے کشتی میں سفر کرنے کا موقع ملا۔آپ جانتے ہیں، میراثی بڑے حاضر جواب ہوتے ہیں اور چھیڑ چھاڑ میں بڑی مہارت رکھتے ہیں۔چوہدری صاحب جب بھی مراثی کو ذلیل اور شرمندہ کرنے کوشش کرتے تھے تو میراثی ایسا کرارا جواب دیتا تھا کہ بیچارے چوہدری صاحب کو خود شرمندہ ہونا پڑتا تھا۔اتفاق سے مراثی قریباً کھودا تھا۔یعنی اس کی داڑھی کے صرف دو بال تھے ، باقی داڑھی اگی ہی نہیں تھی۔جب کشتی ڈولی اور ہچکولے کھانے لگی تو (جیسا کہ ہمارے ملک کا رواج ہے) کشتی بان نے اعلان کیا کہ خواجہ خضر کے نام کی کچھ خیرات دے دی جائے تاکہ ہم اس طوفان سے بچ جائیں۔چوہدری صاحب کو سو بھی کہ اب میراثی سے بدلہ لینے کا وقت ہے۔اس نے کہا کہ بات یہ ہے کہ سب سے اچھی قربانی یہ ہوگی کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی اپنی داڑھی کے دو دو بال کھینچ کر اس دریا میں خواجہ خضر کی خیرات ڈال دیں۔اس نے سوچا کہ مراثی کے صرف دو بال ہیں اور اس طرح دونوں نکل جائیں گے۔مراثی نے مٹر کر حیرت سے دیکھا اور جواب دیا۔چوہدری جی ! الہیہ دوہاں دا ویلا اے، کہیڑ افلاں اے جہیز اساری داڑھی نہ پٹ کے سٹ دے۔یعنی بات کر رہے ہو، یہ کوئی دو بالوں کا وقت ہے؟ آج تو وقت ہے، ساری داڑھی پھینک دی جائے۔لیکن خدا کی قسم ! اسلام کے معاملے میں یہ لطیفہ آج سچا ثابت ہو رہا ہے۔آج یہ وقت نہیں رہا کہ دس یا ہیں یا سویا ہزار مبلغ کام کریں۔آج ساری جماعت کو اسلام کی خاطر ہمیں جھونکنا پڑے گا۔اس کے بغیر اسلام زندہ نہیں ہوسکتا۔(نعرے) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اسلام کا زندہ ہونا ، ہم سے ایک فدیہ مانگتا ہے۔وہ کیا ہے؟ ہمارا اس راہ میں مرنا“۔فتح اسلام صفحہ 16) پس آئے ، ہم عہد کریں کہ اسلام کی ضروریات بہر حال پوری کی جائیں اور اپنی ہر ضرورت کو اسلام کی ضرورت پر قربان کر دیا جائے گا۔اسلام جانیں چاہتا ہے تو ہم جانیں لے کر حاضر ہوں گے ، اسلام اموال چاہتا ہے تو ہم اموال لے کر حاضر ہوں گے، اسلام عزتیں چاہتا ہے تو ہم عزتیں لے کر حاضر ہوں گے۔اسلام بہنوں، بیٹیوں اور عورتوں کی قربانیاں چاہتا ہے تو ہماری ساری عورتیں اپنی ساری جانیں پیش کر دیں گی۔اسلام بچوں کی قربانیاں چاہتا ہے تو آج اسلام کو ایسی مائیں ملیں گی، جو خود اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہوں گی۔اسلام باپوں کی قربانیاں چاہتا ہے تو اسلام کے بیٹے یعنی احمدیت 332