تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 323 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 323

اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد آتے ہی جس طرح بھی ان کا بس چلا، انہوں نے ڈسپنسری کھولی اور دوبارہ کام شروع کر دیا۔سلسلہ کو جب ان کی دوبارہ ضرورت پڑی اور انہیں تحریک کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، میرے دل کا مالک خدا ہے، میں دوبارہ جانے کے لئے تیار ہوں۔چنانچہ اس وقت وہ غانا میں خدا کے فضل سے کام کر رہے ہیں اور ان کے ہاتھ میں بڑی برکت ہے اور بڑی شفا ہے۔پس ہمیں اور ڈاکٹروں کی بے حد ضرورت ہے۔اس لئے میں ڈاکٹروں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اس نیک کام میں حصہ لیں۔آپ تاریخ کو چھوڑیں، آپ یہ نہ سوچیں کہ تاریخ میں آپ کیا نام حاصل کریں گے ؟ یہ سوچیں کہ اگر آپ محض اللہ کی رضا کی خاطر اس تحریک میں حصہ لیں گے تو اللہ کے کس پیار کی نظریں آپ پر پڑیں گی؟ غانا کے ایک نمائندے حسن عطا صاحب نے کل ہی ملاقات کے دوران بتایا کہ ہمیں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر کی بڑی شدید ضرورت ہے۔اور آج صبح ملاقات میں جب ایک ڈاکٹر نے تعارف کروایا کہ وو میں آنکھوں کا ڈاکٹر ہوں تو میں نے کہا: پھر باہر جانے کی تیاری کرو۔انہوں نے کہا: حاضر ہوں۔یہ روح ہے جماعت احمدیہ کی۔دنیا کے پردے پر بھلا ایسی جماعت نظر آسکتی ہے؟ کون ہے، جو اس روح کا مقابلہ کرے؟ یہ تو وہ روح ہے، جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلاموں کو عطا کی۔اور اب یہ ان کے لئے خاص ہو چکی ہے۔غیر غلام کے نصیب میں نہیں ہے کہ اس کو یہ روح عطا ہو۔پس جماعت احمدیہ کے اندر یہ روح پائی جاتی ہے، دنیا میں کونسی طاقت اس کا مقابلہ کرسکتی ہے؟ ( نعرے) جہاں تک صد سالہ جو بلی کا تعلق ہے، اس میں ایک پہلو سے کچھ کی ہے۔دس کروڑ ہستتر لاکھ، اکہتر ہزار روپے کا جو وعدہ تھا، اس میں سے ابھی تک صرف چار کروڑ ، چوبیس لاکھ، اٹھائیس ہزار چارسو، ستر روپے وصول ہوئے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے خطبہ جمعہ میں بیان کیا تھا، مجھے اس کی قطعا کوئی فکر نہیں ہے۔میں نے ایک خطبہ جمعہ میں چھوٹی سی تحریک اس سلسلے میں کی تھی اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ اثر قبول کرنے والی جماعت عطا ہوئی ہے۔اس میں تحریک کا سوال نہیں ہے بلکہ ان دلوں کا سوال ہے، جو خدا کی خاطر پاک تحریکوں کو قبول کرتے ہیں۔قربانی کے ایسے عظیم الشان مظاہرے سامنے آئے ہیں کہ ان کو دیکھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے۔اور ان لوگوں کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعائیں نکلی تھیں۔ایک دوست ایک لاکھ روپیہ لے کر آگئے اور کہا کہ میں سب سے پہلے یہ رقم صد سالہ جو بلی میں دوں گا۔اللہ تعالیٰ مجھے توفیق عطا فرمائے کہ میں جلد از جلد اس ذمہ داری کو ادا کر سکوں۔ان کو خدا نے ایک لاکھ کی توفیق دی۔323