تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 322
اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک اب میں مختصر انصرت جہاں سکیم کا ذکر کرتا ہوں۔حضرت خلیفة المسیح الثالث کے کارناموں میں یہ ایک انتہائی عظیم کارنامہ ہے کہ نصرت جہاں سکیم کو جاری کرنے کے بعد اس کی ایسی عمدہ رہنمائی فرمائی کہ دیکھتے دیکھتے اللہ کے فضل نے اسے برکتوں کے پھلوں سے بھر دیا۔اور جماعت نے بھی ایسا تعاون کیا کہ اس نظارے کو دیکھ کر روح عش عش کر اٹھتی ہے۔جب احمدی ڈاکٹروں کو تحریک کی گئی کہ آپ افریقہ کے مختلف ممالک میں جا کر کام کریں تو ہمارے ڈاکٹر ایسی جگہ بھی پہنچے، جہاں نہ پینے کو پانی میسر تھا، نہ کوئی رہائش کا معقول انتظام تھا۔انہوں نے جھونپڑیوں میں رہ کر گزارے گئے۔حالانکہ ان میں سے بعض بڑے ذی ثروت لوگ تھے۔یہاں کوٹھیاں چھوڑ کر گئے تھے، بڑے اعلی پیمانے پر زندگی بسر کر رہے تھے۔لیکن انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی۔بیمار ہوئے ، دل کے دورے پڑے، انتڑیاں تباہ ہوئیں لیکن زبان پر قطعا کوئی شکوہ نہیں لائے۔اور اپنی صحت کو قربان کرتے ہوئے ان ملکوں کے غرباء اور امراء کی صحت کی طرف توجہ دینے لگے۔نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے ہاتھ میں اللہ نے بڑی برکت رکھ دی۔چنانچہ حکومت کے بڑے بڑے عمائدین ان جھونپڑیوں میں آکر رہا کرتے تھے، جہاں علاج ہوا کرتا تھا۔اور حالت یہ تھی کہ ایک معمولی میز پر لٹا کر بڑے بڑے آپریشن ہوتے تھے۔ہمارے ڈاکٹر ان سے بڑے تعجب سے پوچھتے تھے کہ تمہیں اعلیٰ قسم کے ہسپتال مہیا ہیں، تم امریکہ جا سکتے ہو، یورپ جا سکتے ہو، تمہاری مت (عقل) ماری گئی ہے کہ علاج کے لئے ہمارے پاس آ رہے ہو؟ وہ کہتے کہ ہماری مت (عقل) نہیں ماری گئی بلکہ ہماری آنکھیں گواہی دے رہی ہیں کہ شفانہ یورپ میں ہے، نہ امریکہ میں ہے۔شفا اگر کہیں ہے تو وہ احمدی ڈاکٹر کے ہاتھ میں ہے۔(نعرے) پس حضرت خلیفة المسیح الثالث کے اخلاص اور دعاؤں نے اور جماعت کے عمومی ایثار اور جذبے نے اور جماعت کی قربانیوں کی لہلہاتی ہوئی روح نے اس تحریک کو ایسے بابرکت پھل لگائے کہ جو تحریک 3 5 لاکھ روپے کے سرمائے سے شروع کی گئی تھی ، اس کا صرف اس سال کا بجٹ چار کروڑ ، انہتر ، ، لاکھ روپے ہو چکا ہے۔(نعرے) امسال اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دولاکھ بیس ہزار افراد کو اس تحریک کے نتیجے میں شفا عطا فرمائی اور چار ہزار، چارسو، اکہتر کامیاب آپریشن کرنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی۔اس لئے ہمیں ابھی اور ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔کچھ ایسے ڈاکٹر بھی ہیں ، جن کو کئی بار باہر جانا پڑا اور ہر بار وہ بشاشت سے گئے۔ان میں ایک وہ ڈاکٹر بھی ہیں، جن کو دل کا دورہ پڑا اور وہاں کے ڈاکٹروں نے کہا کہ کام کے قابل وہ بلائے لیکن اب یہ کام کے قابل نہیں رہے، ان کو فور اواپس بلایا جائے۔چنانچہ وہ یہاں واپس بلا لئے گئے۔لیکن یہاں۔322