تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 318
اقتباس از خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم کرنا، کسی کے بس کی بات نہیں۔اور ایک سال کی باتیں میں اس تھوڑے سے وقت میں کس طرح بیان کر دوں گا۔بہر حال میں نے بہت خلاصہ نکالا ہے، نوٹس کا کافی موٹا تھا تھا، جس کو کم کرتے کرتے اب یہ چند صفح رہ گئے ہیں۔اب میں تحریک جدید کے متعلق کچھ باتیں کہنی چاہتا ہوں۔آپ کو یہ معلوم کر کے بڑی خوشی ہوگی کہ تحریک جدید ، جس کا بجٹ دس سال پہلے 56لاکھ تھا، اب اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ساتھ یہ بجٹ پانچ کروڑ ، انتالیس لاکھ ستر ہزار ہے۔( نعرے) اس کا بیشتر حصہ بیرونی جماعتیں ادا کر رہی ہیں۔یا ان سکیموں سے پورا ہورہا ہے، جو بیرون پاکستان سے متعلق ہیں۔اور پاکستان کی جماعتوں کا حصہ صرف 37 لاکھ 25 ہزار روپے ہے۔لیکن اس کو دیکھ کر غلط اندازے نہیں ہونے چاہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی جماعتیں ہی ہیں، جن کی قربانیوں کو یہ پھل لگا ہے۔اور ان کے چند ہزار روپے آج کروڑوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔(نعرے) 1978ء میں مجھے پہلی دفعہ امریکہ جانے کا موقع ملا۔میں اپنے طور پر اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لے کر سیر کے لئے گیا تھا۔جماعت احمدیہ میں تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی احمدی سیر کے لئے نکلے اور وہ صرف اس کی ذاتی سیر رہے۔وہ سیر ذاتی بھی بن جاتی ہے اور جماعتی بھی بن جاتی ہے۔چنانچہ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔وہاں واشنگٹن میں ایک دفعہ مجھے معلوم ہوا کہ بعض امریکن عورتیں یہ اعتراض کرتی ہیں کہ ہم اتنی قربانی دے رہے ہیں اور امریکہ کا بجٹ اتنا زیادہ ہو گیا ہے۔لیکن ہمارے مشن ہاؤس کی حالت تو بہت بری ہے اور تم لوگ ناروے میں اور سویڈن وغیرہ میں اتنے اچھے مشن بنارہے ہو۔وہاں کے مبلغ صاحب بڑے پریشان تھے کہ اس قسم کے اعتراض ہورہے ہیں، میں کیا جواب دوں؟ میں نے کہا: آپ کوئی جواب نہ دیں، ان کو اکٹھا کریں، میں جواب دوں گا۔چنانچہ ان کو اکٹھا کیا گیا۔میں نے ان سے کہا کہ تحریک جدید کا آغاز اس طرح ہوا تھا کہ کچھ غریب عورتیں تھیں، ان کے پاس سوائے ایک ایک کڑے یا بندے کے اور کوئی چیز نہ تھی۔انہوں نے وہی پیش کر دیئے۔کچھ غریب مزدور تھے، انہوں نے ایک ایک مہینے کی مزدوری پیش کر دی۔کچھ وہ لوگ تھے، جن کو جماعت کی طرف سے وظیفے ملتے تھے۔انہوں نے وظیفوں میں سے رقم بچائی اور جماعت کو پیش کر دی۔ایک وہ عورت بھی تھی ، جس کے پاس صرف ایک بکری تھی ، اسی کا دودھ اس کے بچوں کی خوراک تھی۔وہ آئی اور اس نے یہ بکری پیش کر دی۔حضرت مصلح موعود نے فرمایا: تمہاری ضرورت کیسے پوری ہوگی؟ اس پر وہ بے اختیار رونے لگی اور کہا کہ میں کیا کروں اور کس 318