تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 306
خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام ہے۔اللہ کے عشق میں آپ نے جو گیت گائے ہیں، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں جو گیت گائے ہیں اور قرآن اور اسلام کی محبت میں جو گیت گائے ہیں، ان کو مختلف اچھی آواز والوں سے ریکارڈ کروا کر مختلف زبانوں میں منظوم ترجمے کروانے ہیں۔اور پھر ان منظوم تراجم کو کیسٹ میں بھرنا ہے یا وڈیو کی شکل میں اتارنا ہے۔اور ساری دنیا میں پھیلانا ہے۔تا کہ جب یہاں سو سالہ جشن منایا جارہا ہوتو ہر قوم قرآن کی تلاوت کرتی ہوئی آئے اور احادیث پڑھتی ہوئی آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ نغمے الاپنی آئے ، جو آپ نے قرآن اور حدیث اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں کہے۔یہ ہے ہمارا جشن۔ہم کسی ڈھول ڈھمکے کے تو قائل نہیں۔جب تمام دنیا سے قافلے یہ گیت گاتے ہوئے ربوہ میں داخل ہوں گے ، وہ ہو گا اصل جشن ، جس سے روحیں ایک عجیب سرور حاصل کریں گی اور خدا کی راہ میں قربانیوں کے لئے ایسی نئی قوت پائیں گی کہ اگلے سو سال کے لئے وہ قوتیں کام دیں گی۔لیکن اس جشن کی تیاری کے لئے جو ضروریات ہیں، ان کو پورا کرنے کے سلسلہ میں ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اب سوائے اس کے کہ ہر وہ شخص جس نے صد سالہ جو بلی میں وعدہ لکھوایا ہے، جب تک غیر معمولی طور پر توجہ اور الحاج کے ساتھ دعا نہ کرے، اس وقت تک اس کے یہ فرائض پورے نہیں ہو سکتے۔میں بھی دعا کروں، آپ بھی دعا کریں۔بچے بھی ، بڑے بھی ، عورتیں بھی ، مرد بھی ، سب کے سب اس طرح دعائیں کریں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جس طرح پین کی مسجد کی تعمیر کے وقت آپ کی دعائیں پوری ہوتی آنکھوں کے سامنے نظر آ رہی تھیں۔یوں لگتا تھا کہ خدا کے فرشتے بارش کے قطروں کی طرح اتر رہے ہیں۔یہ ہوتا ہے دعاؤں کا مزہ کہ ہر آنکھ کو دکھائی دے کہ ہاں کچھ ہو رہا ہے۔اور ایک عجیب پاک تبدیلی پیدا ہورہی ہے۔ایسے آنسو بہانے کی ضرورت ہے، ایسی دعائیں کرنے کی ضرورت ہے۔ورنہ آپ سو سالہ جشن کے حقوق ادا نہیں کر سکیں گے۔نہ قربانی کے لحاظ سے اور نہ دوسرے فرائض کے لحاظ سے، جن کا خلاصہ میں نے اس وقت پیش کیا ہے۔بلکہ خلاصہ بھی نہیں، بہت بڑے وسیع کاموں میں سے چند ایک عنوانات آپ کو سنائے ہیں۔پس دعا کریں، پھر دعا کریں اور پھر دعا کریں۔اشکوں کی راہ سے اپنے خون بہائیں، خدا کی راہ میں۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا اور سارے کام بنا دے گا۔پتہ بھی نہیں لگے گا کہ بوجھ کس چیز کا نام ہے۔بوجھ خود بخود اتر تے چلے جاتے ہیں اور قربانیوں کی توفیق ملتی جاتی ہے۔306