تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 303
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1982ء کیسا؟ جو کچھ دیا ہے، وہ بھی تو اسی نے دیا تھا۔وہ جب دوبارہ ہم اس کے سامنے پیش کر دیں تو اللہ میاں کہتا ہے، میں تم سے سودا کر رہا ہوں۔وہ اگر چاہے تو چھین بھی لیتا ہے۔دیکھتے دیکھتے بڑے بڑے تاجروں کے جیسے بگڑ جایا کرتے ہیں اور ان کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔زمینداروں کے پاؤں تلے سے زمینیں نکل جاتی ہیں۔تو سو (100) طریق ہیں اس کے لینے کے ، مگر وہ نہیں لیتا۔عجیب حوصلہ دکھاتا ہے بنی نوع انسان کے ساتھ۔لیکن چاہتا یہ ہے کہ جب میں لوں تو طوعی طریق پر لوں۔تاکہ دینے والوں کے اندر عظمت کردار پیدا ہو اور اس کے نتیجے میں وہ مزید فضلوں کے وارث بنیں۔یہ ہے فلسفہ اس چندے کا ، جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا سے طلب کیا۔پس یہ سارے کام ہم نے کرنے ہیں، لیکن کسی پر احسان نہیں۔خودان پر احسان ہے، جنہوں نے اپنا سب کچھ پیش کرنا ہے۔یہ ان کا اور خدا کا معاملہ ہے۔اور جب خدا کے ساتھ خلوص کا معاملہ پڑتا ہے تو خدا اس معاملے کو انسان کے لیے کبھی بھی نقصان کا معاملہ نہیں بنے دیتا۔یہ صرف بے وقوفی ہے، بدظنی ہے، جہالت ہے انسان کی کہ وہ سمجھے کہ میں قربانی کروں گا تو مصیبت میں مبتلا ہو جاؤں گا۔حالانکہ قربانی نہ کرنے والے تو مصیبت میں مبتلا دیکھے گئے ہیں، قربانی کرنے والے کبھی مصیبت میں مبتلا نہیں دیکھے گئے۔نہ وہ مبتلا ہوتے ہیں ، نہ ان کی اولاد ہیں، نہ اولادوں کی اولادیں۔محاورہ ہے کہ اولیاء کی اولادیں سات پشت تک اپنے باپ دادا کی نیکیوں کا پھل کھاتی ہیں۔اور جسے اللہ تعالیٰ بڑھانا چاہے، اگر سات پشتوں میں ایک بھی نیک پیدا ہو جائے تو یہ نظام جاری رہتا ہے۔خدا تعالیٰ کی جزا کا نظام تو کبھی ختم ہی نہیں ہوسکتا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ ہم نے ساری دنیا کے سامنے اس نقطہ نگاہ سے پیش کرنی ہے کہ ظالموں نے آپ کی ذات مقدس پر جتنے بھی اعتراض کیے ہیں، ان سب کے جوابات ساتھ ہوں اور دنیا کی سب زبانوں میں وہ تراجم پیش کیے جائیں۔یہ جو دوسرے رائج الوقت نظام کے قائل ہیں، مگر سرے سے خدا کے قائل ہی نہیں ، جب تک ان کے سامنے خدا تعالیٰ کی ذات کو پیش نہ کیا جائے اور ایسے پر اثر اور مدلل مضمون نہ لکھے جائیں، جن سے وہ سمجھنے لگیں کہ ہاں، واقعہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہمیں ضرور غور کرنا چاہئے ، اس وقت تک یہ ساری چیزیں ان پر کچھ بھی اثر نہیں کریں گی۔نہ وہ قرآن کو سمجھیں گے، نہ سیرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھیں گے اور نہ ہی دوسرے پمفلٹ اور رسائل کی ان کے نزدیک کوئی قیمت ہوگی۔جب وہ خدا تعالیٰ کی ذات پر غور کرنے کے لیے آمادہ ہو جائیں ، تب قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور دوسرے مضامین ان کے 303