تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 302
خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ہے، اسے جلدا تاردیں۔چاہے قرض اٹھائیں، بچوں کا پیٹ کاٹیں ، اپنی دوسری ضروریات پیچھے کر دیں، اپنے گھروں کی تعمیر پیچھے ڈال دیں۔اور جو کچھ بھی وہ کریں گے، خدا کی خاطر کریں گے۔کسی پر احسان تو نہیں ہے۔بلکہ جو بھی توفیق خدمت کی ملے گی ، یہ ان پر احسان ہوگا۔اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ خودان پر اپنے فضلوں کی بارش کرے گا۔یہ ان کا اور خدا کا معاملہ ہے۔نظام جماعت پر کسی کا ایک ذرے کا بھی احسان نہیں ہے۔کیونکہ یہ سودا ہی اللہ تعالیٰ کا ہے۔فرماتا ہے:۔إنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَ أَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (توبه (111) کہ تمہارا سودا تو اللہ کے ساتھ ہوا ہے، نہ کہ کسی انسان کے ساتھ۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا کر احسان جتانے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ کو فرمایا ، ان سے کہ دو:۔لَا تَمُنُّوا عَلَى إِسْلَامَكُمْ (الحجرات: 18) تم کہہ رہے ہو کہ ہم نے یہ قربانیاں کیں۔مجھ پر اپنا اسلام ہرگز نہ جتلاؤ۔مجھ پر تمہارا کوئی احسان نہیں ہے۔بلکہ میں تمہارا حسن ہوں، جو تمہیں اعلیٰ مقاصد کی طرف بلا رہا ہوں۔میری وجہ سے تو تمہیں توفیق مل رہی ہے کہ تم خدا کی خاطر نہایت ہی اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے اپنی زندگیاں پیش کرو۔پس یہ احسان تم پر ہے، نہ کہ مجھ پر۔جہاں تک قربانیوں کا تعلق ہے، اسلام تو ایک بڑاہی منصفانہ مذہب ہے۔اگر احسان محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نہیں، آپ کے نظام پر نہیں تو وہ قربانیاں گئیں کہاں؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کہیں نہیں گئیں ، وہ میرے پاس ہیں۔إِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ أَنْفُسَهُمْ وَ أَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ اللہ فرماتا ہے کہ میں نے تمہارے ساتھ ایک سودا کیا ہے۔میں نے تمہارا سب کچھ خرید لیا ہے۔تمہاری جانیں بھی خرید لی ہیں، تمہارے اموال بھی خرید لیے ہیں، تمہاری جائدادیں بھی تمہاری عزتیں بھی تمہاری ساری تمنائیں بھی میں لے چکا ہوں۔اس لیے کہ بسان لهم الجنة۔یعنی ان لوگوں کے لیے میری جنتیں پیش کی جائیں گی۔اور حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ دینے کے بعد وہ جنت، جو رضائے باری تعالیٰ کی جنت ہے اور جو دائی ہے، اگر وہ مل جائے تو ان چیزوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہتی۔یہ سودا بھی نام کا ہی سودا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ محبت اور پیار کے اظہار کے لیے سودا کہہ دیتا ہے۔ورنہ سودا 302