تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 301

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1982ء ہیں۔احمدیوں کی کاروں سے تمام سڑکیں بھر جاتی ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمسایوں کو تکلیف ہوتی ہے اور ان کی تکلیف کا اظہار جائز بھی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ وہ بڑی مہذب قومیں ہیں۔لیکن برداشت کی بھی کچھ حدیں ہوتی ہیں۔اب ہر جمعہ کو دوست مسجد میں اکٹھے ہوں اور تمام سڑکیں بھر دیں اور گزرنے والوں کے لیے ایک مصیبت کھڑی کر دیں تو وہ کہاں تک برداشت کر سکتے ہیں؟ اس لیے وہاں کاروں کی پارکنگ کے لیے جگہ کی ضرورت ہے۔اور اس کے لیے بہت سارو پیہ چاہئے۔امریکہ میں کم از کم پانچ مشن فوری طور پر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔یہ بھی اس منصوبے کے علاوہ ہے اور وہاں کی جماعتوں نے یہ بوجھ بھی اٹھانے ہیں۔پس اتنے وسیع کام پڑے ہوئے ہیں، جو ہم نے کرنے ہیں۔اور ابھی تو میں نے سارے کام آپ کے سامنے پیش ہی نہیں کئے۔ان میں سب سے بڑا اور سب سے اہم کام قرآن کریم کے تراجم کی مختلف زبانوں میں اشاعت ہے۔بہت سی زبانوں میں ابتدائی مراحل پر ترجمے مکمل ہو چکے ہیں۔ان کی نظر ثانی ، پھر نظر ثانی اور پھر مزید احتیاط، یہ مراحل ابھی باقی ہیں۔لیکن بسم اللہ کی سب سے لے کر الناس کی اس تک کا ترجمہ خدا تعالیٰ کے فضل سے مکمل ہے اور مسودات پڑے ہوئے ہیں۔ان کے اوپر کمیٹیاں قائم کی جارہی ہیں۔ماہرین ڈھونڈے جارہے ہیں تا کہ یہ مسودات بھی جلد سے جلد طباعت کی شکل میں دنیا کے سامنے آئیں۔اخراجات کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ کی ایک کمپنی سے جب فرانسیسی زبان کے صرف ترجمے سے متعلق بات کی گئی کہ ترجمے کو اس درجے تک پہنچادو کہ پروف ریڈنگ تک کا کام ہو جائے (اس کے بعد باقی سب خرچ جماعت نے کرنا تھا۔) تو ان کا اندازہ پچپن (55) لاکھ روپے کا تھا۔اور اس کے بعد پچاس، ساٹھ لاکھ روپے اس کی اشاعت پر خرچ ہونا تھا۔پھر اس کی تقسیم کا کام ہے کہ وہ کیسے ہوگی؟ اس کے لیے بھی اخراجات درکار ہیں۔تو قرآن کریم کی ایک ایک اشاعت کے لیے ایک، ایک کروڑ روپے کی تو ضرورت پیش آئے گی۔قرآن کریم کی اشاعت کا پور احق تو انسان ادا ہی نہیں کر سکتا۔لیکن جہاں تک تمنا بے قرار ہے، ہم کچھ تو کریں۔الغرض یہ سارے کام وہ ہیں، جو ا بھی ہونے والے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، عمومی تصویر اب یہ بن رہی ہے کہ جماعت کے اوپر ابھی تک دو تہائی قرضہ پڑا ہوا ہے ان وعدوں کے لحاظ سے، جو جماعت نے یقینا بڑی محبت اور خلوص اور دیانتداری کے ساتھ پیش کیے تھے۔میں یہ تفصیلات اس لیے بتا رہا ہوں کہ جماعت کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ یہ سارے کام ہم نے ہی کرنے ہیں۔کسی اور نے آکر نہیں کرنے۔اس لیے جہاں سے چاہیں، لیں اور جس طرح چاہیں، کریں۔لیکن یہ قرض ، جو ان کے ذمہ 301