تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 299
خطبہ جمعہ فرموده 03 دسمبر 1982 ء تریک جدید - ایک الہبی تحریک - گر اپنے ماہرین تیار نہیں ہو سکتے تو دوسرے ماہرین کو لینا پڑے گا۔پھر پمفلٹ کی اشاعت کی تیاری اور اس کی تقسیم کی تیاری ہے کہ وہ تقسیم کس طرح ہوگی؟ تا کہ دنیا کی ایک سوزبانوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچ جائے۔یہ ہے ہمارا جشن۔اب وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔اس کام کے لئے ہم یہ تو نہیں کر سکتے کہ ساری دنیا کی کمپنیوں کو کہیں کہ ہمارا کام کر دو، ہم پیسے بعد میں دے دیں گے۔ہمارے پیسے آنے والے ہیں ، انتظار کرو۔یہ تو کوئی بھی نہیں مانے گا۔آج کل بہت سے کام ایسے ہیں، جن پر پیشگی خرچ کرنا پڑتا ہے۔پھر ہماری یہ کوشش ہوگی کہ ایک سو ملکوں میں جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے قائم ہو چکی ہو۔آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس کوشش کے لئے کتنی محنت اور کس قدر اخراجات کی ضرورت ہے۔جن نئے ملکوں کا انتخاب کیا جائے گا، (اور وہ انتخاب ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔ان میں مشنوں کا قیام وہاں مبلغوں کا بھجوانا اور ان کی وہاں کی ضروریات کا پورا کرنا ہے۔اگر فی الحال صرف کرائے پر مکان لے کر ہی کام شروع کیا جائے تو اس پر بھی بے انتہا خرچ کا اندازہ ہے۔آپ تصور ہی نہیں کر سکتے کہ باہر کی دنیا خصوصاً مغربی دنیا میں روپے کی کیا قدر اور حیثیت رہ گئی ہے۔اور وہاں چھوٹے چھوٹے مشنوں کے قیام کے لئے کتنے اخراجات کرنے پڑتے ہیں۔پھر مساجد اور مشن ہاؤسز کی تعمیر ہے۔سو (100) جگہ تو با قاعدہ جماعتیں قائم کرتی ہیں لیکن اس کے علاوہ ہر جگہ عمارت خرید کر یا اپنی عمارت تعمیر کر کے مشن کا قائم کرنا اس وقت ہمارے لئے ناممکن ہے۔میں نے جیسا کہ بیان کیا ہے، اکثر صورتوں میں مکان کرائے پر لے کر گزارہ کرنا پڑے گا۔ایک کمرہ بھی مل جائے تو مبلغ وہاں تبلیغ کا کام شروع کر سکتا ہے۔دو مشنوں یعنی اٹلی اور برازیل کے لئے تو خدام الاحمدیہ پہلے ہی روپیہ پیش کر چکی ہے۔لیکن ان کے علاوہ جو ملک ہمارے پیش نظر ہیں، ان میں یونان ہے، پرتگال ہے، آسٹریا ہے، آئر لینڈ ہے، آسٹریلیا ہے، نیوزی لینڈ ہے، اسی طرح ایسے افریقی ممالک ہیں، جہاں فرانسیسی زبان بولی جاتی ہے۔اور ابھی تک ہمارا وہاں کوئی نفوذ نہیں ہوا۔سوائے بہین اور ماریشس کے، جوفرانسیسی بولنے والے ممالک ہیں، ابھی تک جماعت احمد یہ کو فرانسیسی کالونیز میں پھیلنے کا موقع نہیں ملا۔دنیا کا یہ ایک بڑا حصہ ہے، جو احمدیت سے خالی پڑا ہے۔پھر ساؤتھ ایسٹ ایشیا یعنی جنوب مشرقی ایشیا یا فار ایسٹ یعنی مشرق بعید وغیرہ۔( جو جو اصطلاحیں جغرافیائی حالات پر پوری اترتی ہیں، ان کی روشنی میں، میں کہہ رہا ہوں۔) یہ سارے علاقے عملاً محتاج پڑے ہوئے ہیں۔یہاں احمدیت کا پیغام نہیں پہنچا۔پھر بدھسٹ (Buddhist) دنیا ہے۔دنیا میں بدھوں کی بہت بڑی 299