تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 275
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء زمانہ کے امتداد سے زمانے کی قدریں بگڑ جاتی ہیں تو اس وقت اگر بگڑے ہوئے نظریات کو مذہب کا نام دے کر کوئی ظلم کرتا ہے تو وہ ظالم ہے، مذہب ظالم نہیں۔پس عیسائیت ظالم نہیں تھی، عیسائیت نے درویشی کی تعلیم دی تھی، محبت کی تعلیم دی تھی۔یہ کہا تھا کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا گال بھی آگے کر دو۔پس ایسی صورت میں اگر کوئی عیسائیت کے نام پر ظلم کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔اس لئے اگر ایک مسلمان ایسی باتیں کرتا بھی ہے، جو آپ نے اس کی طرف منسوب کی ہیں تو اس سے بڑا ظلم آپ یہ کر رہے ہیں کہ اس کی حرکات کو مذہب کی طرف منسوب کر کے اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اب بتائیں کہ اس کے بعد ان کے سوال کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی تھی؟ میرے اس جواب نے ان کو کتنا مغلوب کیا کہ سارے پریس نے ایک جگہ بھی اس جواب کا ذکر نہیں کیا۔یہ حیرت کی بات ہے۔دیانتدار ہونے کے باوجود تبلیغ والا پہلو تو ذکر کر دیا۔لیکن پتہ تھا کہ اگر ہم نے یہ ذکر بھی چھیڑ دیا تو ساری پولیٹیکل گورنمنٹمیں ہمارے خلاف ہو جائیں گی اور کہیں گی کہ اس وقت تو خمینی کو اشو (Issue) بنانا چاہئے تھا، اس کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنی چاہئے تھی ، تم نے یہ بیان کیوں شائع کر دیا؟ کیونکہ وہاں مذہب کے مقابل پر پالیٹکس کی زیادہ قیمت ہے، اس لئے انہوں نے جمینی کے بارہ میں ساری بحث کو Totally black out کر دیا اور بالکل ذکر تک نہیں کیا۔لیکن اپنی طرف سے بنا کر کوئی جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی کسی ایک اخبار نے بھی یہ لکھا کہ انہوں نے خمینی کے خلاف کچھ کہایا ایسا جواب دیا ، جس سے ہماری تسلی نہیں ہوئی۔پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے، ایک ایک مجلس اڑھائی اڑھائی ، تین تین گھنٹے بلکہ بعض جگہ پانچ ، پانچ گھنٹے تک جاری رہی ہے۔مجالس ختم بھی ہو گئیں تو تب بھی لوگ آتے رہے اور بیٹھ جاتے رہے۔وہ یورپ کی سیاست پر باتیں پوچھتے رہے کہ یورپ کا کیا بنے گا؟ ڈیما کریسی کیا چیز ہے؟ اسلام کا نظام حکومت کیا ہے؟ کمیونزم کے پھیلنے کے کیا امکانات ہیں؟ ایٹمی جنگ کس وقت آئے گی؟ اور یہ کیا ہوگا اور وہ کیا ہو گا؟ ان مجالس کی ساری باتیں تو یہاں دہرائی نہیں جاسکتیں۔یہ ناممکن ہے، اس لئے مختصرا میں نے اسلام کی تبلیغ کا نمونہ پیش کر دیا ہے۔اب میرا خیال ہے کہ کھا نا شروع کرائیں، کچھ لوگوں کو بھوک لگی ہوگی۔ایک اور سوال ہے، مسلمان کیوں دن بدن منزل میں جارہے ہیں؟ میں سمجھتا ہوں، اس کا جواب یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ یہ ہماری تاریخ کا ایک دردناک باب ہے اور یہ اتنی صدیوں پر پھیلا ہوا ہے کہ اس کا میں ذکر چھیڑ دوں تو بہت لمبا قصہ چلے گا اور پھر تکلیف کا موجب بنے گا، اس لئے میرا خیال ہے، اس ذکر کو اس وقت رہنے دیا جائے۔مطبوعه روزنامه الفضل 03 مئی 1983ء) 275