تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 267
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء احمد یہ یہ اعلان کر رہا ہے کہ تم صرف سپین کا کہہ رہے ہو، ہم نے تو ساری دنیا کو اسلام کے لئے فتح کرنا ہے۔اس عالمی غلبہ کے مقابلہ پر جو اسلام کو بہر حال نصیب ہونا ہے، پین کی تو کوئی حقیقت نہیں۔پس میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہماری اصل دولت اور ہماری اصل طاقت اس الہی خلوص میں تھی ، جس کو خدا کے قدموں میں پیش کرنے کی توفیق خود اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی۔اس تمام عرصہ میں جب کہ ہم سپین کے دورہ میں الحمراء گئے۔ان پرانی یادگاروں کو دیکھا، جن کو بڑے بڑے مسلمان بادشاہ، رؤساء اور بزرگ اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے۔ان مسجدوں کو بھی دیکھا ، جن کو عیسائیوں نے اپنی عبادت گاہوں میں تبدیل کر دیا تھا۔یعنی کلیسا بنا دیا گیا تھا۔ان ویران مساجد کو دیکھا، جو ابھی تک خالی پڑی تھیں۔یعنی پانچ سو سال تک مساجد کو کلیساؤں میں تبدیل کرنے کے مسلسل عمل کے باوجود اب بھی بہت سے بچی پڑی ہیں، جن میں کچھ بھی نہیں ، صرف ایک ویرانہ ہے۔یہ سب کچھ دیکھ کر ہر قدم پر ہمارے دل خون ہوئے۔پرانی یادوں نے ایسا نڈ پایا اور اتنار لایا کہ ایک شعر مجھے یاد آیا۔ایک شاعر نے اس قسم کی کیفیت کا اظہار یوں کیا۔وہ مزا دیا تڑپ نے کہ یہ آرزوهی یا رب مرے دونوں پہلوؤں میں دل بے قرار ہوتا میں نے سوچا کہ شاعرتو دو پہلوؤں میں دل مانتا ہے، ہمارا تو ذرہ ذرہ دل بے قرار بن کر تڑپ رہا ہے۔کیا پھر بھی اللہ کورحم نہیں آئے گا؟ کیا اللہ تعالیٰ کو اسلام کے لئے تڑپنے والوں کی کوئی قدر نہیں ہوگی ؟ یقینا ہوگی۔میرے دل میں یہ خیال بھی آیا کہ یہ آنسو، جو اس وقت ہم خدا کی راہ میں بہار ہے ہیں، ان کے ساتھ وہ قربانیاں شامل ہیں، جو ان کی سچائی کا اعلان کر رہی ہیں۔یہ کوئی ناول پڑھنے والوں کے آنسو تو نہیں تھے۔جنہوں نے گویا رات کو لحافوں میں لیٹ کر بڑے مزے کے ساتھ ناول پڑھے اور پین کی یاد میں آنسو بہائے اور سو گئے۔بلکہ یہ ان لوگوں کے آنسو تھے، جنہوں نے وہ سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کر دیا، جو خدا نے انہیں عطا فر مایا تھا۔انہوں نے ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کا بیڑا اٹھایا اور اس کے لئے قربانیاں دیں۔اس میں ان عورتوں کی قربانیاں شامل ہیں، جنہوں نے اپنے زیور پیش کر دیئے۔ان غریبوں کی قربانیاں شامل ہیں، جنہوں نے دو آنے میسر تھے تو دو آنے پیش کر دیئے۔ان مہاجر پٹھان عورتوں کی قربانیاں شامل ہیں، جن کے پاس تن کے کپڑوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔وہ جماعت احمدیہ سے وظیفہ پاتی تھیں۔جب یہ اعلان سنا تو ان میں سے ایک نے اپنے امام کی خدمت میں حاضر ہو کر دور پے پیش کیے اور روتے ہوئے یہ عرض کیا کہ اے ہمارے آقا ! ساری جماعت قربانیاں پیش کر رہی ہے اور میں تڑپ رہی تھی کہ میرے پاس تو کچھ نہیں۔267