تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 266
خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم میرے خیال میں دو سے تین لاکھ سے زیادہ شائع نہیں ہو سکتے۔وہاں ایک ایک اخبار چھ چھ ، سات سات ملین کی تعداد میں شائع ہوتا ہے۔اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یورپ کے پریس نے جو Coverage دیا ہے، وہ کتنا وسیع ہوگا۔اس کو کروڑوں کہنا کوئی مبالغہ نہیں ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کی جتنی آبادی ہے، اتنے اخباروں کی کاپیوں میں اسلام کا تذکرہ ہوا اور مسجد بشارت کے افتتاح کی کاروائی شائع ہوئی تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔اسی طرح جب ان لوگوں نے ہم سے یہ پوچھا کہ تمہارے پاس ہے کیا؟ تم یہاں کیا لینے آئے ہو؟ تو ہم نے ان کو یہی جواب دیا کہ ہم تو تمہارے دلوں کے دروازے کھٹکھٹانے آئے ہیں۔ہم ایک درویش صفت جماعت ہیں، ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں۔اتنے کمزور ہیں کہ اپنے ملک میں غیر مسلم قرار دیئے جا چکے ہیں۔تمہیں اسلام کی طرف بلانے والوں کی یہ حالت ہے۔لیکن ہمارے دل اللہ کی راہ میں پکھل رہے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہماری آنکھوں سے ایک ایک آنسو جو یہاں گرے گا، اس سے ابن رشد جیسے صاحب علم پیدا ہوں گے۔اس سے وہ عظیم صوفیاء اور بزرگ لوگ پیدا ہوں گے، جنہوں نے ایک دفعہ پہلے بھی سپین کی تاریخ کو بدل دیا تھا۔اس کے سوا ہمارے پاس کوئی دولت نہیں ہے، جو ہم پیش کر سکیں۔چنانچہ ان کے اخباروں نے اس کو نمایاں کر کے شائع کیا۔وہ سچائی کے قائل ہیں۔باوجود اس کے کہ وہ لوگ مذہبی لحاظ سے نسبتاً نہایت ہی ادنی مذاہب کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔ان کے معاشرے میں اخبار کے اندر دیانت کا ایک معیار پایا جاتا ہے۔وہ سچائی پر قائم رہتے ہیں۔سارے یورپ میں ایک بھی اخبار نے کوئی خبر شائع نہیں کی ، جسے بد دیانتی پر محمول کیا جاسکتا ہے۔بلکہ بعض ایسی خبروں کو انہوں نے اچھالا ، جن کے نتیجہ میں وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح یہ لوگوں پر اثر انداز ہوں گے۔چنانچہ بیلجیئم کے ایک اخبار کا نمائندہ بیڈ رو آباد پہنچا۔اس نے انٹرویو لیا، جسے اس نے بیلجیئم کے اخباروں میں شائع بھی کروایا اور ریڈیو سے نشر بھی کروایا کہ یہ تو محبت کے ذریعہ دلوں کو جیتنے کے لئے آئے ہیں۔سوئٹزر لینڈ کے مشہور شہر جنیوا سے چھپنے والے ایک اخبار نے لکھا کہ اگر چہ وہاں ایک پادری بیٹھا یہ باتیں کر رہا تھا کہ آئے تو ہیں لیکن ان کی کچھ پیش نہیں جائے گی۔جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ہم ان کو عیسائی بنائیں ، اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ یہ ہمیں مسلمان بنا لیں۔اس لیے یہ ایک آنی جانی بات ہے۔ایک واقعہ ہوا اور گزر گیا۔فکر نہ کریں۔اس کے بعد اس نے لکھا کہ مسجد میں ایک اور واقعہ گزرا تھا، جسے میں دیکھ کر یہ سمجھتا ہوں کہ وہاں جو دعویٰ کیا جارہاتھا، اس میں زیادہ قوت تھی، اس میں زیادہ پینے کی طاقت موجود تھی۔پھر اس نے میرا ذکر کر کے بطور خاص لکھا کہ امام جماعت 266