تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 265 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 265

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء رور ہے تھے اور سجدہ گاہوں کو اپنے آنسوؤں سے تر کر رہے تھے۔چنانچہ پین کے ایک اخبار نویس نے لکھا اور اسی واقعہ کو بعض دوسرے یورپین ممالک کے اخباروں نے بھی بیان کیا کہ ان لوگوں کی جو کیفیت ہم دیکھ کر آئے ہیں، وہ جیتنے والوں کی کیفیت ہے۔عجیب بے قرار تھے یہ لوگ۔اپنے خدا کے حضور اس طرح گریہ وزاری کر رہے تھے کہ تعجب ہوتا تھا ان کو دیکھ کر۔یہ ایسا گہرا اثر چھوڑنے والی بات تھی کہ ٹیلی ویژن کے جو نمائندگان جمعہ کی نماز کے وقت بھی آئے اور بعد میں افتتاحی تقریب کے وقت بھی موجود تھے، انہوں نے بعد میں مسلسل ایک ہفتہ تک اس تقریب کی فلم نصف نصف گھنٹے کی اہل سپین کو دکھانی شروع کی۔اور از خود اس کی کاپیاں نہ صرف یورپین ممالک کو فراہم کیں بلکہ اسلامی ممالک کو بھی بھجوائیں۔لیکن خود اپنے ملک کے ذرائع ابلاغ کا رد عمل سراسر نا قابل فہم تھا۔یوں لگتا تھا کہ اخباری اصطلاح کے بموجب عمل اس بات پر کیا جارہا ہو کہ Kill Spain یعنی سپین سے آمدہ خبروں کا گلا گھونٹ دو اور ردی کی ٹوکری میں پھینک دو، ہرگز انہیں شائع نہ ہونے دو۔پس واقعتہ یہی ہوا کہ اس عظیم تاریخی واقعہ کا کوئی ذکر پاکستانی اخبارات میں نہ آیا، جودنیا بھر کے اخباروں کی توجہ کھینچنے کا موجب بنا ہوا تھا اور عرب دنیا کے موقر جرائد نے بھی نمایاں طور پر اس خبر کا ذکر کیا۔اس کے برعکس ایک عجیب و غریب خبر ایسی تھی، جو پاکستانی اخبارات کے سروں پر مسلط تھی۔اس خبر کا تعلق جنوبی افریقہ کی عدالت کے اس فیصلے سے تھا کہ بعض مسلمان فرقے اپنے مملوکہ قبرستان میں کسی احمدی کی نعش کی اجازت نہیں دیتے تو بوجہ اس کے کہ وہ قبرستان ان کا ملوکہ ہے، ان کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ ضرور احمدی کو وہاں دفن ہونے دیں۔یہ وہ خبر تھی، جسے احمدیت کے مقابل پر دیگر فرقوں کی عظیم الشان اور تاریخ ساز فتح تصور کر کہ بعض اخبارات کے صفحات جس سے مسلسل کالے کئے جارہے تھے۔گویا کوئی مخفی آواز انہیں حکم دے رہی ہو کہ Flash South Africa یعنی ساؤتھ افریقہ کی عدالت کے عظیم کارنامے کی داستان کو اچھالو۔گویا صدیوں کے تعطل کے بعد اندلس کی سرزمین میں بنائی جانے والی تاریخی مسجد کا ذکر تو باعث شرم تھا۔مگر قابل فخر تھا یہ ذکر کہ مردوں کو بعض نجی قبرستانوں میں دفن نہیں ہونے دیا گیا۔چنانچہ تمام دنیا میں ٹیلی ویژن کے ذریعہ خبریں پہنچیں اور اخبارات میں جو اشاعت ہوئی ہے، اس کی تعداد تو کروڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔یعنی اگر وہ سارے اخبارات، جن میں یہ خبریں شائع ہوئیں اور اسلام پر مضامین آئے یا جنہوں نے پریس کانفرنس کو Cover کیا، جتنی تعداد میں وہ اخبارات چھپتے ہیں، اگر ان کا شمار کیا جائے تو یہ تعداد کروڑوں تک جا پہنچتی ہے۔ہمارے یہاں کے بڑے سے بڑے اخبار بھی 265