تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 264 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 264

خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم سال قبل میرے پیشر و حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے وہاں مسجد کا سنگ بنیا درکھا اور اب مجھے وہاں اللہ تعالیٰ نے یہ موقع عطا فر مایا کہ میں اس مسجد کے افتتاح کا اعلان کر دوں۔وہ کیا منظر تھا ؟ وہاں کیا باتیں ہوئیں؟ کس طرح کمپینیش قوم نے اپنے دروازے اسلام کے لئے کھولے؟ کس طرح وہاں کے اخبارات نے غیر معمولی طور پر اسلام کے پیغام کو من وعن بغیر کسی مبالغے یا بغیر کسی کانٹ چھانٹ کے شائع کیا؟ یہ ایک بہت ہی دلچسپ اور لمبی داستان ہے۔مسجد بشارت سپین کے متعلق الفضل کا جو خصوصی نمبر شائع ہوگا، اس میں وہ تمام اقتباسات اصل زبان میں بھی اور ان کے ترجمے بھی شائع ہو جائیں گے۔وہ ہیں بھی اتنے طویل کہ اس مجلس میں ان کا بیان کرنا، ویسے بھی ممکن نہیں۔میں اس کی صرف ایک مثال دے دیتا ہوں۔لاغوزا (Lavoz) قرطبہ کا سب سے کثیر الاشاعت اخبار ہے۔اس نے ایک ہی دن میں چار جگہ افتتاحی تقریب کی خبر دی اور پورے دو صفحات پر جماعت احمد یہ اور اسلام کے متعلق ایک مضمون میں بتایا کہ اسلام کس ارادہ کے ساتھ پین میں دوبارہ داخل ہو رہا ہے؟ اور اس کے کیا منصوبے ہیں؟ اس کے علاوہ ایک ادارتی نوٹ بھی لکھا، جس میں اس نے کہا: ہم آپ کو اھلاً وسهلاً ومرحباً کہتے ہیں۔آپ چونکہ محبت کا پیغام لے کر آئے ہیں ، آپ چونکہ امن کا پیغام لے کر آئے ہیں اور دلائل کے زور سے ہمارے دل جیتنے کی کوشش کریں گے ، اس لئے اب ہمارے اور تمہارے درمیان ایک کھلی جنگ ہے۔آگے چل کے ایڈیٹر لکھتا ہے: اہل سپین کو میں یہ مشورہ دیتا ہوں کہ اس جنگ میں وہی ہتھیار استعمال کریں، جو یہ کر رہے ہیں۔لیکن کوئی فاول گیم نہیں کھبانی۔اس کے باوجود اگر یہ دل جیت لیتے ہیں تو جیت لیں، ہم ان کو اهلاً و سهلاً و مرحبا کہتے ہیں۔ہمارے دروازے ان کے لئے کھلے ہیں۔تو یہ نہایت ہی عظیم الشان خراج تحسین ہے، جو اس نے بھی دیا اور بعض دوسرے اخبار نے بھی۔تاہم یہ ساری باتیں، جو دنیا کی نظر میں تو اہمیت رکھتی ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں ، ان کے اندر کوئی ایسا اہم پہلو نہیں ہے، جو باقی رہنے والا ہو۔البتہ ان باتوں کی تہ میں کچھ اور باتیں بھی وہاں ہو رہی تھیں اور میرے نزدیک وہ سب سے زیادہ قیمتی اور بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔وہ باتیں یہ تھیں کہ اس تقریب میں شریک ہونے والے جتنے زائرین باہر سے آئے تھے، ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ کا ایسا تصرف تھا اور اس قدر شدت کے ساتھ وہ دعاؤں کی طرف مائل تھے کہ یوں لگتا تھا گویا ساری فضاروحانی جذب اور اثر میں ڈوبی ہوئی ہے۔مسجد میں جب جمعہ کی نماز ہوئی تو عام شامل ہونے والے، جن کی تعداد ہزاروں میں تھی، بلا استثناء سب کے سب بچوں کی طرح بے اختیار بلک بلک کر 264