تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 262 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 262

خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک زندگی متعین کئے گئے۔ان واقفین زندگی میں ایک نوجوان کرم الہی ظفر بھی تھا۔وہ شخص بڑے اخلاص کے ساتھ اپنی زندگی کا نذرانہ لے کر حاضر ہوا تھا۔جب یہ اعلان ہوئے کہ کس کو کہاں مقرر کیا گیا ہے تو کرم الہی ظفر کا نام کسی تقرری میں شامل نہیں تھا۔وہ بڑے درد کے ساتھ خون ہوا دل لے کر واپس لوٹ رہا تھا کہ کاش! میری قربانی بھی قبول ہوتی۔کاش! مجھے بھی اسلام کے لئے کسی سرزمین کو فتح کرنے کے لئے مقرر کیا جاتا کہ اتنے میں چند اور واقف دوست اس کو دوڑ کر ملے اور گلے لگایا اور مبارکباد دینی شروع کر دی۔اس نے کہا: میر اول تو خون ہو رہا ہے، تم مجھے کس بات کی مبارک دیتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم تمہیں اس بات کی مبارکباد دیتے ہیں کہ تمام محاذوں پر جہاں اسلام کی تبلیغ کا آغاز کیا جارہا ہے، سب سے مشکل محاذ تمہارے سپرد کیا گیا ہے۔مگر غلطی سے تمہیں یہ پیغام نہیں مل سکا۔حضرت صاحب نے بعد میں پیغام بھجوایا کہ کرم الہی ظفر کو میں نے سپین فتح کرنے کے لئے مقرر کیا ہے۔چنانچہ کرم الہی ظفر صاحب وزیٹر Visitor ویزا لے کر پین پہنچے۔مگر چند مہینے سے زیادہ وہاں ٹھہر نہ سکے۔کیونکہ ایک تو ان کا کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا، دوسرے تبلیغ کی راہ میں بہت ہی مشکلات تھیں۔چنانچہ ان کو یہ ہدایت کی گئی کہ آپ کچھ دیر کے لئے انگلستان چلے جائیں۔وہاں انہوں نے عطر سازی کا کام سیکھا اور پھر دوبارہ اپنے طور پر پین پہنچ گئے اور بقیہ اب تک کی ساری زندگی انہوں نے عطر سازی کے کام میں صرف کی۔عطر بیچ کر وہ تبلیغ بھی کرتے تھے، لٹریچر بھی مہیا کرتے تھے اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھی پالتے تھے۔ان کی تبلیغ کا طریقہ کار یہ تھا کہ ایک ریڑی لگا کر جس پر عطر سجائے ہوتے تھے، وہ لوگوں کو دعوت دیتے تھے کہ آؤ اور ایک ایشیائی خوشبو مجھ سے لو۔جب لوگ اکٹھے ہو جاتے تھے تو پھر وہ کہتے تھے کہ دیکھو، یہ ایشیائی خوشبو و چند نوں کا قصہ ہے، آج نہیں تو کل اڑ جائے گی یا تمہارے کپڑوں میں دھل جائے گی۔لیکن ایک ایسی خوشبو بھی میرے پاس ہے، جو دائمی ہے۔وہ کبھی نہیں مٹ سکتی ، اسے موت کا غسل بھی نہیں دھو سکتا۔چنانچہ حیرت انگیز دلچسپی کے ساتھ لوگ انتظار کرتے تھے کہ ہمیں اس خوشبو کے بارے میں بھی آگاہ کیا جائے۔تبلیغ کا ایک ایسا ہی نظارہ میں نے خود دیکھا۔میں سپین میں پہلی مرتبہ 1957 ء کے اواخر میں گیا تھا۔کرم الہی صاحب ظفر نے مجھے خود ساتھ لے جا کر اپنی تبلیغ کا طریق کار دکھایا۔چنانچہ میں نے دیکھا، جب عطر میں دلچسپی لینے والے اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے ایشیائی خوشبو کے بارے میں یہ جملہ کہا تو لوگوں نے بے اختیار کہنا شروع کر دیا کہ ہمیں بتاؤ، وہ کون سی خوشبو ہے؟ انہوں نے کہا: وہ اسلام کی خوشبو ہے، 262