تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 258
خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم اور اس نے سپین کا جنوب مشرقی حصہ اپنے باپ سے ہتھیا لیا۔اس کے بعد بھی اس نے بار بار کوشش کی کہ وہ سپین کی پوری حکومت پر قابض ہو جائے۔لیکن ابوالحسن زیادہ سمجھدار اور اس بغاوت کے باوجود بھی اتنا طاقتور تھا کہ اس نے قبضہ نہیں کرنے دیا۔اس زمانہ میں ابوالحسن کو سب سے زیادہ مضبوط بازو اپنے بھائی کی شکل میں ملا۔جس کا نام الزغل بیان کیا جاتا ہے۔یہ بہت ہی مخلص مسلمان اور قابل جرنیل تھا۔ابوالحسن نے اپنے اس بھائی کی بدولت ابوعبداللہ کی ہر سازش کوناکام بنایا اور اس کے مقابل پر ہمیشہ سینہ سپر رہا لیکن ابوالحسن کی وفات کے بعد الزغل کے لئے تنہا مقابلہ کرنامشکل ہو گیا۔خصوصاً اس لئے بھی کہ جب وہ کبھی عیسائی حملہ کی خبر پا تا تھا، فوج کا ایک بہت بڑا دستہ لے کر ان مسلمانوں کی مدد کے لئے نکل کھڑا ہوتا تھا، جن کو عیسائیوں نے گھیر رکھا ہوتا تھا۔وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا تھا کہ پیچھے اس کے بھتیجے کو سازشوں کا موقع مل جائے گا۔چنانچہ اس کا بار بار باہر جانا اور عیسائیوں سے لڑنا، بھتیجے کو فائدہ دیتارہا اور وہ اپنی حکومت مضبوط بناتا رہا۔یہاں تک کہ جب عیسائیوں نے ملاگا پر سب سے خطر ناک حملہ کی تیاری کی اور الزغل فوج لے کر روانہ ہوا تو اس کے اس بھتیجے نے عیسائیوں کو اس کی خبر دے دی۔انہوں نے اس کی فوج پر شب خون مار اور ملاگا پہنچنے سے پہلے پہلے اس کو تتر بتر کر دیا۔الزغل اپنی بچی کچھی فوج کو لے کر واپس غرناطہ گیا تو اس کے بھتیجے ابو عبد اللہ نے غرناطہ کے دروازے ان پر یہ کہہ کر بند کر دیئے کہ یہ غدار ہیں۔عیسائیوں کے ساتھ مل کر عمد ا میدان چھوڑ کر بھاگے ہیں۔چنانچہ اس پر الزغل کو مجبوراً غرناطہ کے مرکزی علاقہ سے ہٹ کر سرا نیواڈا کے پہاڑی علاقوں میں پناہ لینا پڑی۔یہ وہاں پھر بھی فوجیں اکٹھی کرتا رہا اور جو بھی بچے کھچے غیرت مند مسلمان تھے ، ان کو اپنے گرد اکٹھا کر کے عیسائیوں پر حملوں کا جواب دیتا رہا۔پھر جب ملاگا پر آخری حملہ ہوا تو یہ اس وقت بھی وہاں مسلمانوں کی مدد کو جا پہنچا۔لیکن ایک تو اس کی فوج تھوڑی تھی، دوسرے اس مرتبہ ابو عبداللہ کی فوج نے ان پر حملہ کر کے ان کو تتر بتر کر دیا تھا۔اس لئے وہ ناکام ہو کر پھر پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا۔ملاگا پر عیسائیوں کے قبضہ کی داستان بہت ہی درد ناک ہے۔وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑا ہی باغیرت جرنیل عطا کیا۔لیکن بدقسمتی سے ایک تو چونکہ باہر سے کوئی مدد نہ پہنچی، دوسرے محاصرہ اتناز بر دست اور طویل تھا کہ بالآخر جب شہر فاقوں سے تنگ آ گیا تو ان کو اپنے دروازے کھول دینے پڑے۔اس وقت بھی اس مسلمان جرنیل نے قوم کے سامنے آخری احتجاج کیا اور کہا کہ یہ حرکت نہ کرو کیونکہ اس کے بعد تمہارے لئے پھر کوئی امن نہیں ہوگا۔لیکن بھوک سے نڈھال شہری مجبور ہو گئے۔انہوں نے قلعہ کے دروازے کھول دیئے۔چنانچہ رو سا سمیت سب لوگوں کو غلام اور لونڈیاں بنالیا گیا۔ان کی 258