تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 257 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 257

تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء 271 ہجری یعنی 884ء وہ سال ہے، جو مسلمانوں کی تاریخ میں ایک پہلو سے انتہائی دردناک اور تاریک سال ہے۔یہ اس کی تاریکی ہی تھی، جس نے بعد میں سپین پر سائے ڈالے۔یہ وہ سال ہے، جب پوپ نے سپین کے مسلمان بادشاہ سے مل کر بغداد کی مرکزی حکومت کے خلاف ساز باز کی اور دوسری طرف وہ حسد، جو مرکزی حکومت کو اندلس کی عظیم الشان حکومت سے تھا، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قیصر روم نے بغداد کی حکومت سے یہ معاہدہ کر لیا کہ جب ہم چین کے مسلمانوں سے لڑیں تو تم دخل نہیں دو گے اور یہ معاملہ چلتے چلتے یہاں تک جاپہنچا کہ بالآخر قرطبہ کا سارا علاقہ عیسائیوں نے ہتھیا لیا اور پھر ملاگا کی طرف بڑھنا شروع ہوئے۔ملاگا سپین کے جنوبی حصہ کا ایک صوبہ ہے۔اور جبرالٹر ( جبل الطارق) بھی اسی کے قریب واقع ہے۔ملاگا کی طرف جب عیسائیوں نے پیش قدمی کی تو اس وقت اندلوسیہ کی سب سے طاقتور حکومت غرناطہ میں قائم تھی۔اور عیسائی فرڈی نینڈ پنجم کے ماتحت اس علاقے میں پیش قدمی کر رہے تھے۔یہ فرڈی منڈ وہ ہے، جس کا نام مسلمانوں نے اکثر ناولوں میں پڑھا ہوگا۔ازابیلا ( Isabella) اور فرڈی ننڈ کے قصے صدیوں سے مسلمانوں میں رائج ہیں اور ان کو پڑھ پڑھ کر ہماری کئی نسلیں آنسو بہاتی رہیں۔یہ وہ ملکہ اور بادشاہ ہیں ، جنہوں نے عیسائی طاقتوں کو مجتمع کیا اور انگلستان، آسٹریا، فرانس اور دیگر ممالک سے فوجیں طلب کر کے اپنے آپ کو اس مقصد پر وقف کئے رکھا کہ سازشوں سے، رشوت ستانی کے ذریعہ، دھوکہ دہی کے ذریعہ اور جبر کے ذریعہ ایک ایک انچ زمین مسلمانوں سے چھین لینی ہے۔چنانچہ ملاگا پر حملہ سے پہلے انہوں نے اس وقت کے مسلمان بادشاہ ابوالحسن کے بیٹے ابو عبد اللہ سے ساز باز کی۔اس بیٹے کو تاریخ دان سپین کا آخری مسلمان بادشاہ کہتے ہیں۔یہ ایسا ظالم اور سفاک تھا کہ اس نے اپنے باپ کے خلاف اور مسلمان حکومت کی خلاف از ابیلا اور فرڈی ننڈ کا مہمان بن کر ان سے ایک معاہدہ کیا۔اور وہ معاہدہ یہ تھا کہ تم مسلمان سلطنتیں ایک کے بعد دوسری ہضم کرتے چلے جاؤ کیونکہ وہ میری دشمن ہیں اور مجھے طاقت میں آتا دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔پس تم مسلمان حکومتوں پر حملے کرو، میں یہ کوشش کروں گا کہ غرناطہ کی حکومت اس میں دخل اندازی نہ کرے۔چنانچہ ابوعبداللہ نے اپنے باپ ابوالحسن کے خلاف سب سے پہلے بغاوت کا علم بلند کیا۔جس میں اس کی ملکہ یعنی ابو عبد اللہ کی ماں عائشہ کا بہت بڑا دخل تھا۔عائشہ وہ مسلمان ملکہ تھی ، جس کا مسلمان قبائل میں بڑا اثر و رسوخ تھا۔ابوالحسن کی دوسری بیوی ملکہ شریا تھی ، جو عیسائی تھی۔جس کو نہ عائشہ پسند کرتی تھی اور نہ مسلمان قبائل پسند کرتے تھے۔اس بات نے ابوعبداللہ کے لئے زمین ہموار کر دی 257