تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 256
خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک مسلسل سوال کرتے رہتے تھے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا ہے، یہ ایک بہت ہی طویل داستان ہے۔میں اس موقع پر صرف سپین سے متعلق کچھ بیان کروں گا۔پیشتر اس کے کہ میں سپین میں مسجد بشارت کی افتتاحی تقریب کے متعلق کچھ کہوں، میں سمجھتا ہوں کہ سپین کی اسلامی تاریخ کا پس منظر بیان کرنا بہت ضروری ہے۔یہ تاریخ بھی بہت طویل ہے۔آٹھ صدیوں پر پھیلی پڑی ہے۔اور اس وقت یہ بھی ممکن نہیں کہ ساری تاریخ کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے۔اس لئے میں اس کے آخری حصہ سے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔گیارہویں صدی عیسوی، وہ صدی ہے، جس میں مسلمان حکومت تقریباً تین سو سال سپین کے کے بیشتر حصہ پر قائم رہنے کے بعد انحطاط پذیر ہوئی۔اور اس انحطاط کی وجہ ان کی باہمی لڑائیاں تھیں۔مختلف رؤساء اور امراء اپنی اپنی انانیت میں مبتلا ہو گئے اور اسلام کے مفادات کو نظر انداز کر دیا۔چنانچہ اس حالت میں پھر شمال کی جانب سے عیسائیوں کی لہریں اٹھیں اور ایک کے بعد دوسری لہر نے کچھ نہ کچھ حصہ مسلمانوں سے ہتھیا نا شروع کر دیا۔سب سے پہلے فرڈی ننڈ اول نے، جو گیارہویں صدی میں سپین کی تاریخ میں خاص شہرت رکھتا ہے، شمال مغربی علاقہ مسلمانوں سے ہتھیا لیا۔پھر مشرق کی طرف سے، جہاں فرانس کی جنوب مشرقی سرحد پین سے ملتی ہے، یعنی Pyrenees ( پیرا نیز ) کے علاقہ میں مختلف عیسائی ممالک کے جتھوں نے حملے کر کے وہاں سے بھی کوئی نہ کوئی ٹکڑا مسلمانوں سے چھینا اور پھر یہ سلسلہ جاری رہا۔اگر چہ بسا اوقات کچھ تھوڑی سی سرزمین مسلمان واپس لینے میں کامیاب بھی ہو جاتے رہے لیکن عمومی رحجان یہی نظر آتا ہے کہ عیسائی شمال سے جنوب کی طرف مسلسل بڑھتے چلے گئے۔یہاں تک کہ قرطبہ کی عظیم الشان سلطنت پر بھی قابض ہو گئے۔قرطبہ پر قبضہ کرنے میں عیسائیوں کو کئی سو سال لگے ہیں۔تمام عیسائی مؤرخین یہ لکھتے ہیں کہ اس انحطاط کے وقت بھی مسلمانوں کی طاقت اتنی عظیم تھی اور جنگ کے وقت وہ اس مہارت کے ساتھ لڑتے اور اس قربانی کے جذبہ کے ساتھ اپنی جانیں فدا کرتے تھے کہ ان سے عیسائیوں کا اپنے پرانے ملک کو چھینا کوئی آسان کام نہیں تھا۔اور وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ بلاشبہ مسلمانوں کی شکست کی تمام تر ذمہ داری ہمیشہ غداروں پر عائد ہوتی رہی ہے۔غداری ہی مسلمانوں کی پسپائی کا سبب ہمیشہ بنتی رہی ہے۔چنانچہ ان میں سے کوئی نہ کوئی غدار پیدا ہوتا رہا، کوئی نہ کوئی حاسد انہی میں سے ایسا اٹھ کھڑا ہوا ، جس نے عیسائیوں کے ساتھ ساز باز کی اور مسلمانوں کے مفاد کو نقصان پہنچایا۔اگر یہ نہ ہوتا تو عیسائی مؤرخین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ سپین کو از سر نو مسلمانوں سے چھین لینا، عیسائی طاقتوں کے بس کا کام نہ تھا۔256