تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 247

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 21 نومبر 1982ء پہنچی۔چنانچہ سوئٹزر لینڈ کے ایک کثیر الاشاعت اخبار اور دوسرے اخباروں نے بھی اس فقرہ کو پکڑا اور آگے چلاتے گئے۔پس یہ حقیقت ہے کہ ہمارے پاس اس وقت محبت ، بجز اور انکساری کے ہتھیاروں کے سوا اور کوئی ہتھیار نہیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بظاہر یہ نرم اور بے زور نظر آنے والے ہتھیار دنیا کے سب ہتھیاروں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا کرتے ہیں اور ان کی فتح دائمی ہوا کرتی ہے۔۔۔قرآن کریم میں عباد الرحمان کی جو تصویر کھینچی گئی ہے، اس کا آغاز ہی اس بات سے کیا گیا ہے کہ عباد الرحمان زمین پر نرمی اور انکساری سے چلتے ہیں۔بظاہر ان میں کوئی طاقت نظر نہیں آتی۔تکبر نام کو نہیں ہوتا۔سر جھکا کر چلتے ہیں۔جب کوئی جاہل ان سے جاہلانہ خطاب کرتا ہے تو جواب میں ان کے منہ سے سلام کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا۔لیکن دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور قوم وہی ہوتی ہے، جو عباد الرحمان کہلانے کی مستحق ہو جائے۔پس پین کی سرزمین کو اگر ہم نے دوبارہ جیتنا ہے تو ہمیں عباد الرحمان بننا پڑے گا۔یہی وہ طاقت ہے، جس کے ساتھ ہم نے سپین ہی کو نہیں بلکہ ساری دنیا کو فتح کر کے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا پڑے گا۔میں نے یہ واقعہ، جو حضرت مصلح موعود سے سنا تھا اور بعد میں تاریخ میں پڑھنے کا موقعہ ملا، اس لیے بیان کیا کہ وہ ایک عورت ، جس نے اپنے بیٹے کو غیرت دلانے کی کوشش کی تھی ، اس بیٹے کو تو غیرت نہیں آئی۔لیکن اسلام کے ہزاروں لاکھوں بیٹے منتظر ہیں کہ احمدی عورتیں ان کو غیرت دلائیں اور وہ غیرت حقیقتا جوش میں آکر طاقت کا ایک سمندر بن جائے۔وہ جوش ایسی طاقت میں تبدیل ہو جائے ، جو اندلس کی ساری سرزمین پر چھا جائے۔اور اس کا مقابلہ کرنا سر زمین اندلس کے لیے ممکن نہ ہو۔یہ کوئی خواب نہیں ہے۔یہ قصے نہیں ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اسی جذبہ کے ذریعہ سے ہم نے دوبارہ سپین کو فتح کرنا ہے۔اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے جو بھی منصوبہ سمجھایا تھا، اس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔اس سلسلہ میں ماؤں نے جو کردار ادا کرنا ہے، بہنوں اور بیٹیوں نے جو کر دار ادا کرنا ہے، وہ آپ کا کام ہے کہ اس کو سمجھیں اور پوری قوت اور عزم کہ ساتھ اس کو جاری کریں۔منصوبہ یہ ہے کہ سپین میں مبلغین پر اکتفا نہ کیا جائے۔بلکہ اطراف عالم سے احباب چھٹیوں کے ایام سپین میں گزاریں اور تبلیغی مہم میں حصہ لیں۔کیونکہ صرف ایک یا دو مبلغ حقیقتا نا کافی ہیں۔اگران کے اوپر بناء کر کے ہم یہ سمجھیں کہ ہم نے اندلس کی سرزمین کو فتح کرنے کی بنیادیں رکھ دی ہیں تو یہ ایک دیوانے کا خواب ہے۔اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔پین کے وسیع علاقے میں عیسائیت کا گہرا 247