تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 230 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 230

خطاسبه فرموده 07 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک چاہئے۔جہاں تک بعض کمزوریوں کا تعلق ہے، وہ کس قوم میں نہیں ہوتیں۔بعض لوگ کئی غلط فیصلے کر دیتے ہیں، جن کے نتیجے میں بداثرات پیدا ہو جاتے ہیں۔چنانچہ انہی بداثرات کے نتیجے میں یورپ کی پریس کانفرنسوں میں ہر جگہ ثمینی صاحب کا نام لیا گیا۔سارے یورپ میں اور مغربی ممالک میں یہ بھیانک تصویر کھینچی جاتی کہ اس وقت انتہائی ظلم ہورہا ہے، شدید ظلم ہورہا ہے کہ گویا شاہ کے زمانے کے مظالم اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔اور یہ سارا ظلم اسلام کی طرف سے ہو رہا ہے، جس کے نمائندہ اس وقت خمینی ہیں۔یہ وہ پس منظر ہے، جس میں یہ سوال کیا جاتا تھا اور مقصد ان کا یہ تھا کہ اگر ہم مینی صاحب کے خلاف کوئی کلمہ بولیں تو سارے یورپ کے اخبار اس کو اچھالیں اور کہیں کہ دیکھو! خمینی کو Condemn یعنی بدنام کیا جارہا ہے۔اور اگر ہم کچھ نہ کہیں تو سارا یورپ سمجھ لے کہ یہ بھی اسی قسم کا ایک اسلام ہے، جو آج ہمارے پاس آگیا ہے۔اور ہمیں اس اسلام میں کوئی دلچسپی نہیں ، جو مظالم کی تعلیم دیتا ہو۔یہ وہ مشکل رستہ تھا ، جس پروہ مجھے کھینچ کر لانا چاہتے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے اس کا مؤثر جواب دینے کی توفیق عطا فرمائی۔یہ جواب میں اس لئے بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں بعض تبلیغی حکمتیں ہیں، جن کا آپ کے سامنے کھول کر رکھنا ضروری ہے۔اس کا ایک جواب تو میں نے ان کو یہ دیا کہ جب آپ مینی صاحب پر حملہ کرتے ہیں اور مظالم کی داستان کو اچھالتے ہیں تو آپ یہ فرق نہیں کرتے کہ مسلم قوم اور مسلم لیڈر ایک اور چیز ہے اور اسلام ایک اور چیز۔اسلام ایک مذہب کا نام ہے، اس کی ایک تعلیم ہے۔اس کی طرف منسوب ہونے والے سیارے کے سارے اس تعلیم پر ہر پہلو سے کار بند نہیں ہیں۔اگر اسلام پر آپ نے حملہ کرنا ہے تو اسلام کی تعلیم کی رو سے حملہ کریں۔مجھے بتائیں کہ اسلامی تعلیم میں کہاں مظالم کی تلقین کی گئی ہے؟ کہاں بنی نوع انسان کے حقوق غصب کرنے کی تلقین کی گئی ہے؟ لیکن ایک مسلمان کے کردار کو سامنے رکھ کر، جس کو خود آپ نے پینٹ کیا ہے اور ہمیں پتہ نہیں کہ آپ کا بیان کس حد تک درست ہے؟ اور کس حد تک غلط ہے؟ ہم نہیں جانتے کہ اصل واقعات کیا ہیں؟ آپ مجھ سے فتوئی چاہتے ہیں، ان باتوں کے متعلق، جن کی آپ نے یک طرفہ تصویر کھینچی ہے۔اور اسلام کی انصاف کے بارہ میں تعلیم مجھے اس بات سے منع کرتی ہے کہ میں یک طرفہ فتوی جاری کرو۔لیکن اگر سو فیصدی تسلیم بھی کر لیا جائے کہ آپ کا بیان ہے، وہ نہایت ظالم ہیں۔انہوں نے اسلام کے نام پر حد سے زیادہ مظالم کئے ہیں ، تب بھی آپ کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔آپ اپنی تاریخ کو بھلا کر کس طرح اعتراض کر سکتے ہیں۔یورپ کی ایسی بھیانک تاریخ آپ کے سامنے کھلی پڑی ہے کہ ایک ایک ملک کی ایک ایک ملکہ نے اپنی تھوڑی سی زندگی کے دور ورس 230