تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 214

خطاب فرمودہ 05 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جھنگ، سیالکوٹ، راولپنڈی، ملتان اور اوکاڑہ کی مجالس پہلے کبھی سائیکل سوار بھیجنے کی توفیق نہیں پاتی اب اللہ کے فضل سے انہوں نے بھی انصار سائیکل سوار وفود یہاں بھجوائے ہیں۔علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کچھ اور منزلیں بھی اس لحاظ سے طے ہوئی ہیں کہ پہلے جو انصار سائیکلوں پر آیا کرتے تھے، ان کی اوسط عمر بالعموم چھوٹی ہوتی تھی۔یعنی خدام کی عمر سے نکل کر جب وہ انصار اللہ میں داخل ہوتے تھے تو قریب کے زمانہ میں وہ اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے تھے کہ سائیکل پر سفر کر سکیں۔گزشتہ سال خدا تعالیٰ کے فضل سے کچھ دوست نسبتا زیادہ عمر کے بھی سائیکلوں پر تشریف لائے تھے۔لیکن اس سال ان کوششوں میں بہت نمایاں اضافہ ہوا، جو انصار کی جواں ہمتی کا اس لحاظ سے ایک نشان ہے کہ سائیکل سواران میں ایک اسی (80) سالہ بزرگ بھی شامل ہیں۔یہ بزرگ مکرم چوہدری عطا اللہ صاحب ہیں، جو خدا اتعالیٰ کے فضل سے توفیق پاتے ہوئے بڑی جواں ہمتی کے ساتھ چک نمبر 117 چھور ضلع شیخو پورہ سے سائیکل پر ربوہ پہنچے ہیں۔یہ تو نسبتا نزدیک کا فاصلہ ہے۔انصار کے ایک جواں ہمت رکن مکرم علی محمد صاحب، جن کی عمر 75 سال ہے، تھر پارکر سندھ سے 700 میل کا سفر کے یہاں پہنچے ہیں۔ان کے ساتھ ایک نو مسلم نوجوان ہیں، جن کے والدین ابھی تک ہندو ہیں۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا، انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے قبول اسلام کی توفیق پائی ہے۔اس سال خدام الاحمدیہ کے اجتماع پر بھی سائیکل پر آئے تھے۔ان کو ایسا لطف آیا کہ اب انصار اللہ کے اجتماع پر بھی ساتھ چل پڑے اور اس بزرگ دوست علی محمد صاحب کے ساتھ ساتھی بن کر پھر تشریف لائے ہیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، احمدی بوڑھے دن بدن جوان ہوتے جارہے ہیں۔انصار اللہ کے لئے یہ خوشی کی بات ہے اور خدام الاحمدیہ کے لئے ایک لحاظ سے لمحہ فکریہ۔بوڑھوں اور جوانواں کا ایک مقابلہ ہے، جس میں پہلے تو میں انصار کے ساتھ ہوا کرتا تھا۔یعنی چھ مہینے پہلے تک یہی کیفیت تھی کیونکہ میں بھی با قاعده مجلس انصاراللہ کا ایک رکن تھا۔اگر چہ خدام بھی ہمارے اپنے بھائی اور بچے ہیں لیکن مقابلہ کی اسلامی روح کے پیش نظر میری دلی کوشش بھی پہنی ہوتی تھی اور دعا بھی ہوتی تھی کہ انصار آگے بڑھیں۔لیکن اب تو دونوں میں سانجھا ہو گیا ہوں۔اس لئے یہ بہت مشکل ہے کہ ایک کے لئے دوسرے سے زیادہ دعا کروں۔اب تو یہ حال ہے کہ دونوں میں سے جو جیتے گا، اسی کی خوشی ہوگی۔آپ کو اپنے اپنے دائرہ میں یہ رشک کا مقابلہ جاری رکھنا چاہئے اور اپنے اپنے دائرہ میں پہلے سے بڑھ کر دعائیں کرنی چاہئیں۔کر انصار کی پوری کوشش ہونی چاہئے کہ وہ اپنے اوپر سے بڑھاپے کا داغ مٹائیں اور جوانوں کو جواں ہمتی سے 006 214