تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 12
خلاصہ تقریر فرموده 06 اگست 1982ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ششم حکومتی امور میں مشورہ لے۔اور بعد مشورہ جب تو کسی امر کے کرنے کا پختہ عہد کر لے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اپنے فیصلہ پر عمل پیرا ہو۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک سوسائٹی کو پاک نہ کیا جائے ، اصلاح کا کوئی کام کامیابی سے نہیں چل سکتا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے تزکیہ کا حکم دیا۔اور جب لوگوں کا تزکیہ ہو گیا تو ان سے مشورہ کا مرحلہ آیا۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو مروجہ جمہوریت سراسر بے معنی ہے۔لوگ اس قابل نہیں ہوتے کہ اپنا لیڈر منتخب کر سکیں۔لیکن اہلیت پیدا کرنے سے پہلے ہی انہیں یہ حق مل جاتا ہے۔کہ کہا تو یہ جاتا ہے کہ جمہوریت نام ہے لوگوں کی حکومت کا۔جولوگوں کے لئے ہو اور حکومت بھی کی جائے انہیں کے ذریعہ اور واسطہ سے لیکن جمہوریت کے نتیجہ میں جو حکومتی نظام معرض وجود میں آتا ہے، اس پر ان تینوں میں سے ایک بات بھی صادق نہیں آتی۔نہ وہ عوام کی حکومت ہوتی ہے، نہ عوام کے لئے ہوتی ہے اور نہ وہ عوام کے ذریعہ سے بروئے کار آتی ہے۔اس لئے مروجہ جمہوریت جھوٹ اور فسادکا ذریعہ ثابت ہوئے بغیر نہیں رہتی۔اور اس کی حیثیت از اول تا آخر دھوکہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔اس لئے خدا تعالیٰ جب نبی بھیجتا ہے تو وہ لوگوں کا تزکیہ کر کے پہلے انہیں چنے اور منتخب کرنے کا اہل بناتا ہے۔پھر وہ نبی کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق کسی کو اپنا امام اور پیشوا منتخب کرتے ہیں۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی منشاء اور مرضی کے مطابق خلافت کا نظام معرض وجود میں آتا ہے۔اور خلیفہ اہل لوگوں سے مشورہ طلب کرتا ہے۔اصل خليفة الله محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔خلافت آپ کے واسطہ سے کل کے طور پر قائم ہوتی ہے اور آپ کے طریق پر ہی گامزن رہتے ہوئے جملہ امور سر انجام دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ تم نے میرا بھی نمائندہ بننا ہے اور ان لوگوں کا بھی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے شَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فرما کر لوگوں سے مشورہ لینے کا بھی حکم دیا اور ساتھ ہی فرمایا:۔* فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ یعنی جب تو کسی امر کا فیصلہ کرلے تو عمل اپنے فیصلہ پر ہی کر۔یہ ہے شوریٰ کا وہ نظام، جو اللہ تعالٰی نے محد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قائم فرمایا۔خطاب جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو منتخب کرنے کا حق ، جن سے مشورہ لیا جائے ، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فر مایا۔اس سے بہتر ڈیموکریٹک طریق انتخاب کا اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ حقیقی بصیرت 12