تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 209

تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطبہ جمعہ فرمودہ 05 نومبر 1982ء اس لحاظ سے دفتر سوم کے لئے بہت ہی وسیع گنجائش موجود ہے۔اور اگر چہ یہ گنجائش پاکستان میں بھی ہے لیکن پاکستان سے بہت بڑھ کر غیر ممالک میں ہے۔کیونکہ غیر ممالک کا چندہ عام اور چندہ وصیت اس وقت پاکستان کے چندہ عام اور چندہ وصیت سے دگنے سے بھی زائد ہے۔لیکن ان کا چندہ تحریک جدید، انجمن احمدیہ پاکستان کے چندہ کا تقریباً نصف ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کم از کم چار گنا گنجائش موجود ہے۔اسی طرح چندہ عام اور چندہ وصیت میں بھی ابھی بہت گنجائش ہے۔اللہ کے فضل سے جماعتیں تیزی کے ساتھ چندہ با شرح دینے کی طرف آ رہی ہیں اور بہت خوشکن رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں۔لیکن میرا جو ابتدائی جائزہ تھا، اس سے یہی معلوم ہوا کہ ابھی بہت بھاری تعداد ایسی موجود تھی، جو چندہ ادا ہی نہیں کر رہی تھی۔یا اگر ادا کرتی بھی تھی تو شرح کے مطابق نہیں دے رہی تھی۔اور چندہ دہندگان میں سے ایک بھاری تعداد ایسی تھی، جس نے سرے سے تحریک جدید میں شمولیت ہی نہیں کی۔تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ تحریک جدید نے بیرونی آمد کو بڑھتا ہوا دیکھ کر یہ سمجھ لیا کہ اب تحریک جدید کے چندے کی طرف توجہ کی ضرورت نہیں۔اور یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔قربانی کرنے والی کسی جماعت کو قربانی کی بعض راہوں سے محروم کر دینا، بہت بڑا ظلم ہے۔یعنی اچھے بھلے قربانی کرنے والے، نہایت مخلص لوگ ، دوسرے چندے دے رہے ہیں لیکن ان کو توجہ ہی نہیں دلائی جارہی کہ تم نے تحریک جدید کا چندہ بھی دینا ہے۔ذراسی توجہ دلائیں تو وہ بڑے جوش کے ساتھ آگے آئیں گے۔دراصل ہوا یہ کہ بیرون پاکستان، جو اس وقت ہندوستان تھا، جتنی جماعتیں تھیں، ان میں جہاں تک تبلیغ کا اور تحریک جدید کے مشنز کا تعلق ہے، ان کا تعلق صرف چندہ تحریک جدید سے تھا۔اور جہاں تک حصہ آمد اور چندہ عام کا تعلق ہے، وہ صدر انجمن احمدیہ کے نام شمار ہوتا تھا۔مگر کچھ عرصے کے بعد حضرت مصلح موعود کے وقت میں ہی انتظامی تبدیلی کی گئی اور تمام چندہ عام ہو یا چندہ وصیت، وہ تحریک جدید کی طرف منتقل کر دیا گیا۔جب تک یہ نہیں ہوا تھا تحریک جدید کوفکر رہتی تھی کہ ہم نے اپنا خرچ کس طرح پورا کرنا ہے؟ اس لئے وہ تحریک جدید کے چندے کی طرف توجہ کرتی تھی۔جب اچانک ان کو Wind Fall ( درختوں کا جھاڑ۔وہ پھل جو خود بخود نیچے آ رہتا ہے، اس کو Wind Fall کہا جاتا ہے۔مل گئی تو ان کو خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی سہولت حاصل ہوگئی۔بہت ساز اندروپیہ، جس کا ان کو گمان بھی نہیں تھا، وہ ان کومل گیا۔اور انہوں نے کہا، اب یہ تھوڑا ساتحریک جدید کا چندہ ہے، اس کی کیا ضرورت ہے؟ اس کو بے شک چھوڑ دو۔حالانکہ تحریک جدید کا تھوڑ اسا چندہ، جو ان کو نظر آ رہا ہے، اس کی تو کوئی بھی حقیقت نہیں۔وہ بے شمار اخلاص، 209