تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 208

خطبہ جمعہ فرمودہ 05 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ایک بڑی تعداد فوت ہوگئی ہوگی۔مگر کم ہونے کے باوجود اس وقت ان کی تعداد اٹھارہ ہزار، پانچ سویا اٹھارہ ہزار، چھ سو کے قریب ہے۔اور ان کا مجموعی چندہ تیرہ لاکھ سے زائد اور چودہ لاکھ سے کچھ کم ہے۔یعنی تیرہ اور چودہ لاکھ کے درمیان ہے۔اس دفتر والوں کو بھی میں یہی نصیحت کرتا ہوں کہ جو دوست فوت ہو چکے ہیں، دفتر دوم کی آئندہ نسلیں ان کے نام کو زندہ رکھنے کی خاطر یہ عہد کریں کہ کوئی فوت شدہ اس لسٹ سے غائب نہ ہونے دیا جائے گا اور ان کی قربانیاں جاری رہیں گی۔تاکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے اللہ کے نزدیک وہ فعال شکل میں زندہ نظر آئیں۔یعنی ایک تو زندگی ہے ہی کہ نیک لوگ جو خدا کے حضور حاضر ہوتے ہیں، وہ زندہ رہتے ہیں۔لیکن نیک اعمال کی صورت میں اگر ان کی وفات کے بعد ان کی طرف سے قربانیاں جاری رکھی جائیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خبر دیتے ہیں اور ان سے زیادہ سچی خبر دینے والا کوئی انسان پیدا نہیں ہوا کہ وہ نیک لوگ ، جو نیک کام کرتے ہوئے فوت ہو جائیں اور ان کی اولا دان کی نیکیوں کو جاری رکھے تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان نیکیوں کا ثواب ان کو پہنچتا رہتا ہے۔اس لحاظ سے میرا مطلب ہے کہ وہ عملاً بھی اس دنیا کی فعال زندگی میں زندہ رکھے جائیں گے۔- تیسرے دفتر کو قائم ہوئے ، آج سترہ سال ہو چکے ہیں۔اور اس سترہ سال کے عرصے میں اس دفتر میں جتنے شامل ہونے چاہئیں تھے، اس سے بہت کم تعداد میں شامل ہوئے ہیں۔یعنی مشکل سے صرف پانچ ہزار تک پہنچے ہیں۔حالانکہ دفتر اول کے وقت جماعت کی جو تعداد تھی اور بچے پیدا ہونے کی جو رفتار تھی، اس کے لحاظ سے دس سال کے اندر پانچ ہزار کی تعداد کو حاصل کرنا کافی نہیں۔اور جبکہ خدا کے فضل سے جماعت کا عظیم الشان پھیلاؤ ہو چکا ہے اور روزانہ مجھے بچوں کے جس قدر نام رکھنے پڑتے ہیں، وہی اتنے ہیں، خدا کے فضل کے ساتھ کہ اب تک پانچ ہزار کیا، اگر دفتر سوم میں شامل ہونے والوں کی تعداد تیں، چالیس ہزار بھی ہو جاتی تو مجھے تعجب نہ ہوتا۔پس معلوم ہوتا ہے کہ دفتر سوم کی طرف غفلت کی گئی ہے۔ہوسکتا ہے، اس میں منتظمین کا بھی کچھ قصور ہو۔اور ہو سکتا ہے، ہمارا بحیثیت جماعت یہ قصور ہو کہ ہم نے آئندہ نسلوں کی صحیح تربیت نہیں کی۔تربیت کے لئے یہ ایک بہت ہی اہم نکتہ ہے کہ بچوں سے بہت بچپن ہی سے چندہ لینا شروع کرو۔ان کو ہفتہ وار یا ماہانہ کچھ رقم دو اور پھر ان سے کچھ خدا کے نام پر لو اور ان کو بتاؤ کہ ہم یہ کس غرض کے لئے لے رہے ہیں؟ 208