تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 184 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 184

ارشادات فرموده 23 اکتوبر 1982ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک کوئی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔علم کے معاملہ میں شرم خودکشی کے مترادف ہے۔اب جب چھینی لوگ ہمارے سامنے اردو بولتے ہیں تو اگر وہ اچھی فصیح و بلیغ اردو بولیں تو ہم حیران ہوتے ہیں۔ٹیری میڑھی بولیں تو ہنسی آتی ہے۔خوامخواہ ٹیڑی میڑھی عربی بول کر دنیا میں زبان کو خراب کرتے ہیں کہ اس طرح نہیں ہوئی کیونکہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ عرب بن رہا ہے۔باہر جا کر بعض لوگ انگریزی بھی ٹھیک نہیں بولتے۔پرانی بات ہے۔ایک دفعہ ہمارے ایک پاکستانی احمدی دوست تقریر کر رہے تھے۔میں نے ایک انگریز پروفیسر کو بلایا ہوا تھا۔تقریباً پون گھنٹہ کی تقریر کے بعد اس نے مجھ سے پوچھا: یہ کس زبان میں بول رہے تھے؟ یعنی ایک لفظ بھی اس کی سمجھ میں نہیں آیا۔اسے یہ پتہ بھی نہیں لگا کہ وہ کس زبان میں تقریر کر رہا تھا۔یہ تو علم ضائع کرنے والی بات ہے۔ہمارا ایک فارسی کا بڑا ماہر تھا۔وہ پی ، ایچ ڈی کر رہا تھا۔فارسی کے ایک پروفیسر نے کہا کہ اس کی تحریر بہت اچھی ہے لیکن جب بولتا ہے تو کوئی سمجھ نہیں آتی ، کون سی زبان بول رہا ہے؟ یعنی علمی اہلیت کے لحاظ سے شستہ زبان پر قادر ہے لیکن بولنے میں مہارت نہیں۔وہ پنجابی تلفظ میں بولتا ہے۔پنجاب میں خاص طور پر یہ بیماری بڑی عام ہے۔باہر کے ملکوں میں لوگ زبان سیکھتے ہیں تو بالکل اسی طرح بولنے لگ جاتے ہیں، جس طرح اہل زبان بولتے ہیں۔تھوڑی دیر میں ان کو محاورہ ہو جاتا ہے۔پس جامعہ احمدیہ میں اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔میں چاہتا ہوں، چوٹی کے زبان دان پیدا ہوں۔محترم ملک سیف الرحمن صاحب نے عرض کیا: اگر دو چار باہر چلے جائیں اور وہ زبان سیکھ کر آئیں تو پھر ان کے ذریعہ زبانیں سکھانے کا انتظام ہو سکتا ہے۔حضور نے فرمایا:۔مگر ان کا انتظار نہ کریں۔ہاں جب باہر سے سیکھ کر آئیں گے تو پھر ہم مقابلہ کرا ئیں گے اور دیکھیں گے مشین کے سکھائے ہوئے اور ان (اساتذہ) کے سکھائے ہوئے میں کیا فرق ہے؟ اصل میں ساتھ ہی آپس میں بول چال شروع کر دیں تب زبان آتی ہے۔آپس میں بول چال کریں، اس کو ریکارڈ کریں۔پھر اپنی آواز سنیں۔پھر اصل کے ساتھ مقابلہ کریں تو پھر صبح سمجھ آتی ہے کہ میں کس حد تک سیکھ رہا ہوں۔ملک صاحب نے عرض کیا: یہ طریق اگر جامعہ احمدیہ میں جاری ہو جائے تو بہت بہتر ہے۔البتہ اس کے لئے ذرائع درکار ہیں۔حضور نے فرمایا:۔ذرائع کی فکر نہ کریں، ذرائع ساری دنیا میں ماشاء اللہ مہیا ہیں۔آپ کوئی سکیم بنائیں۔محترم ملک صاحب نے یہ بھی عرض کیا کہ پچھلے دنوں ٹی وی پر آیا تھا، کوئٹہ میں سعودی عرب نے زبان سکھانے کا ایک پروجیکٹ قائم کر کے ملٹری سٹاف کالج کو دیا ہے۔اس قسم کا یہاں بھی آجائے تو بہت بہتر ہے۔حضور نے فرمایا:۔184