تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 170

خطاب فرمودہ 18 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک میں تلفظ کی کمزوری آجاتی ہے۔کیونکہ اچھا تلفظ آہی نہیں سکتا، جب تک کہ انسان خود نہ سنے۔اب (Video) وڈیو سسٹم آگئے ہیں، ان کے ذریعے یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا ہے۔اگر تحقیق کی جائے تو بہت سی ایسی وڈیو ریکارڈنگ مل سکتی ہیں، جن میں ایک فریچ ٹیچر صحیح تلفظ کے ساتھ اور آہستہ آہستہ فریج پڑھا رہی ہے اور ساتھ تصویریں بھی آرہی ہیں اور وہ اشاروں سے بھی بتا رہی ہے۔اس طریق سے زبان آجاتی ہے۔پھر سائیکالوجی کی طرف سے مختلف ممالک میں جو ریسر چز یعنی تحقیقات ہو رہی ہیں، اس میں کئی قسم کے تجربے ہوئے ہیں۔بلغاریہ ایک مشرقی یورپ کا ملک ہے، وہاں یہ تجربہ کیا گیا تھا کہ ایک میوزک ہال میں بہت ہی اعلی اور آرام دہ کرسیاں بچھائی گئیں۔جس طرح (Luxury) کے لئے صوفے سیٹ بنائے جاتے ہیں اور بیک گراونڈ میں انہوں نے ایک نئی زبان بھر دی اور اس کے ترجمے اور گرائمر وغیرہ پڑھارہے ہیں۔فلور گراونڈ میں میوزک کا انتظام ہے۔لیکن ہلکی سی آواز بھی سنائی دے رہی ہے۔توجہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ میوزک کی طرف دینی ہے، زبان کی طرف نہیں دینی۔زبان بھول جاؤ تمہارے اوپر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑنا چاہئے۔یہ تجربہ اس نظریے کے تحت کیا گیا کہ کانشس برین یعنی ذہن بعض دفعہ باہر ایک روک ڈال دیتا ہے اور اس سے ٹکرا کر بہت سے علوم واپس چلے جاتے ہیں اور ذہن کے اندر Penetrate داخل نہیں ہونے دیتا۔اور کانشنس برین یعنی شعوری ذہن میں ان کانشنس یا سب کانشنس برین) یعنی غیر شعوری یا تحت الشعوری ذہن کی نسبت Storage Capicity یعنی الفاظ کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہے۔مثلاً سب کا نشنس تحت الشعور کے متعلق تو یہاں تک معلوم ہوا ہے کہ ایک بچی ، جس کو انگریزی کے سوا کوئی زبان نہیں آتی تھی اور دوسری زبان کا ایک لفظ بھی نہیں جانتی تھی ، جب اس کے دماغ کا آپریشن ہونے لگا اور اس کے لئے ڈاکٹروں نے سوئیاں گزارنی شروع کیں تو ایک جگہ پہنچ کر وہ Fluent نہایت رواں زبان میں جرمن بولنے لگ گئی۔( دماغ کا ایک حصہ Execute متحرک کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ جرمن بولنے لگ گئی۔) ڈاکٹر بڑے متعجب ہوئے کہ یہ کیا قصہ ہے؟ اس کے ماں باپ سے سوال کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے تو اس کو کبھی جرمن نہیں سکھائی۔پھر Cross examination کرید کر سوالات پوچھنے پر ماں کو یاد آ گیا کہ اصل میں بچپن میں اس کی دایہ ایک جرمن تھی اور اس کی عادت تھی Soliloquy یعنی وہ بیٹھی آپ ہی آپ منہ میں باتیں کیا کرتی تھی۔اب یہ اس کے بچپن کا تھوڑ اسا دور تھا۔اس وقت کوئی Conciousness یعنی شعوری کیفیت اس کی ایسی نہیں تھی کہ جو وہ سیکھنا چاہتی تھی ، کانشنس برین یا شعوری ذہن اس کو د کر رہا تھا بلکہ جو وہ سن رہی تھی، دماغ اس کو 170