تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 169
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 118 اکتوبر 1982ء جائے۔جو لوگ استعمال نہیں کرتے ، وہ اسے ضائع کر دیتے ہیں۔لیکن جو اپنے دماغ پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں ، وہ اسے معطل نہیں کرتے بلکہ اور زیادہ چمکا دیتے ہیں۔پس آپ اپنے دماغ کی قدر کریں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت غیر معمولی قوتیں عطا فرمائی ہیں۔آپ بیک وقت بہت سی چیزیں سیکھ سکتے ہیں بشرطیکہ علم میں مگن ہو جائیں۔یہی زندگی کی لذت ہے۔جو مزاعلم میں ہے، وہ نہ گیوں میں ہے، نہ چالا کی میں ہے اور نہ لباس وغیرہ میں ہے۔پھر اس کے ساتھ کیریکٹر میں ایک عظمت (Nobility) بھی پیدا ہو جاتی ہے۔تو جیسا کہ آپ سے میں نے کہا تھا، زبانیں سیکھیں۔جب آپ نیک نیتی سے سیکھیں گے تو اللہ تعالی کی مدد بھی آپ کو حاصل ہوگی۔اور آپ پر کوئی ایسا بوجھ بھی نہیں پڑے گا، جو آپ کی تعلیم میں حارج و۔ہر طالب علم کو جوز اند وقت ملتا ہے، اس میں وہ یہ مشغلہ رکھ لے کہ کوئی زبان سیکھنی ہے۔اس سے اس کو Rolaxation یعنی تفریح بھی ہوگی۔کیونکہ دلچسپی کو حاصل کرنے یا بوریت کو دور کرنے کا جو Phenomenon ہے، وہ صرف یہ ہے کہ انسان تبدیلی چاہتا ہے۔کام سے کام میں تبدیلی ہو، تب بھی آدمی Relaxed یعنی سکون حاصل کر لیتا ہے۔چنانچہ انتہائی پریشر کے وقت جب چرچل نے Relaxed کرنا ہوتا تھا تو وہ ترکھان والا کوئی کام شروع کر دیتا تھا۔اور اگر ترکھان کام کر رہا ہو اور تھک جائے تو وہ تو خیر اس وقت جرنیل نہیں بن سکتا۔لیکن بہر حال اگر کوئی اور کام کرے گا تو اس میں دلچسپی پیدا ہو جائے گی۔تو تنوع میں دلچسپی ہے، تبدیلی میں دلچسپی ہے۔یہ بھی آپ کی ایک علمی تبدیلی ہو جائے گی۔آپ ایک نئی زبان سیکھنے لگ جائیں گے۔اس موضوع پر ابھی میاں احمد (صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب۔ناقل ) سے باتیں ہورہی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ رشیا میں زبان پر ریسرچ ہوئی۔وہ بعض زبانیں بعض طریقوں سے جلدی سیکھا دیتے ہیں۔میں نے ان سے کہا ہے کہ ساری دنیا سے ( کوائف (Data اکٹھا کریں ریں۔اصل بات یہ ہے کہ زبان پر نئی نئی ریسرچ بہت سے ملکوں میں ہو رہی ہے اور اس کے متعلق مختلف ذرائع اختیار کیے جارہے ہیں۔مثلاً بنیادی طور پر یہ بات ہے کہ ترجمے کی بجائے براہ راست زبان سیکھی جائے۔اس کے لئے شروع میں تصویری زبان میں بغیر ترجمے کے کتابیں آگئی تھیں۔فرنچ میں اٹالین وغیرہ ) ہر زبان میں یہ کتا بیں ملتی ہیں۔تصویر ہوتی ہے اور اس میں اشارہ ہوتا ہے کہ یہ فلاں چیز ہے، یہ فلاں چیز ہے، آہستہ آہستہ انسان نظری طور پر وہی پڑھنے لگتا ہے۔جس طرح بچہ سیکھتا ہے، اس طرح وہ سیکھتا ہے۔البتہ اس 169