تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 167
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 18 اکتوبر 1982ء ہے۔جس طرح دنیا کے پسماندہ ممالک میں ان کے اکثر ذرائع اور وسائل بغیر استعمال کے پڑے رہ جاتے ہیں، اسی طرح ان بیچاروں کے دماغ بھی بغیر استعمال کے پڑے رہ جاتے ہیں۔جن قوموں نے اپنے دماغ کو استعمال کرنے کی جرات کی ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑے بڑے پھل دیئے۔امریکہ میں ایک نوجوان ، سائنس کا سٹوڈنٹ تھا، جس نے ابھی ڈگری بھی حاصل نہیں کی تھی ، اس کے پروفیسر نے باتوں باتوں میں ایٹم بم کا ذکر کیا، اس نے کہا کہ ایٹم بم تو میں بھی بنا سکتا ہوں۔اس میں کون سی مشکل بات ہے۔پروفیسر نے کہا: تم کس طرح بنا سکتے ہو؟ تمہارے پاس نہ تو اسباب ( Resourses) ہیں اور نہ تمہیں اتنا علم ہے۔اس نے کہا جو باتیں آپ نے مجھے بتائیں ہیں، ان کی روح سے، جس طرح باقی سائنسدان کرتے ہیں، لائبریریوں میں بیٹھ جاتے ہیں، یہ کتاب نکالی، وہ کتاب نکالی، اسی طرح جوڑ جاڑ کے میں بھی بنا سکتا ہوں۔پروفیسر کو اس پر اتنا غصہ آیا کہ اس سے کہا: تم میری کلاس سے نکل جاؤ۔اگر تم اتنے قابل ہو تو تمہیں یہاں بیٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اس نے کہا: میں اس شرط پر نکلوں گا کہ میرے لیکچر شارٹ (Short) یعنی کم نہ ہوں۔کیونکہ میں نے پاس بھی تو ہونا ہے۔اس نے کہا: اچھا، پھر تمہارے ساتھ یہ شرط ہوگی کہ اگر فلاں تاریخ تک جو امتحان کی تاریخ ہے، تم نے ایٹم بم کا خاکہ (Blue) print) بنا دیا اور ہر پرزے کے متعلق مجھے بتا دیا کہ یہ اس طرح بنتا ہے تو میں یونیورسٹی کے بورڈ میں سفارش کروں گا کہ تمہیں بغیر امتحان کے ڈگری عطا کر دی جائے۔اور اگر ایسا نہ کیا تو تم فیل شمار ہو گے اور کالج سے نکال دیئے جاؤ گے۔اس نے کہا: مجھے یہ چینج منظور ہے۔یہ کہا اور اٹھ کر باہر نکل گیا۔جانے سے پہلے اس نے کہا کہ ایک شرط میری بھی ہے، آپ میرے گائیڈ ہیں۔مجھے گائیڈ لائن ضرور دیں۔اگر میں کہیں پھنستا ہوں تو بیشک تھوڑا وقت ہے لیکن میں آپ سے پوچھا کروں گا کہ فلاں مضمون کہاں ملتا ہے، مجھے بتائیں؟ اس نے کہا: یہ تو میں بتادوں گا لیکن یہ کہ کس کس قسم کے پرزے کہاں کہاں مل سکتے ہیں، اس میں تمہاری کوئی مدد نہیں کروں گا؟ خیر یہ چیلنج قبول ہو گیا اور بات آئی گئی ہوگئی۔اس نے تحقیق شروع کی آخر وہ دن آپہنچا، جب اس نے اپنا Thesis تحقیقی مقالہ پیش کرنا تھا۔صرف ایک چیز اس کی انکی رہ گئی۔ایک خاص قسم کا ایسا پرزہ تھا، جو الیکٹرونک ہے اور Valve کا کام کرتا تھا۔خاص کرنٹ کو منقطع (Cutout) کر کے کسی اور کرنٹ کو ( جو بھی کرنٹ تھی ) پاس (pass) کرنے کی اجازت دیتا تھا۔اس بیچارے کو یہ پرزہ نہیں مل رہا تھا۔اور شرط یہ تھی کہ خا کہ ہر طرح سے مکمل ہو۔ایک جگہ بھی اٹک گئے تو سمجھا جائے گا کہ ایٹم بم نہیں بنا ساری کوششیں بریکار گئیں۔اس بیچارے کو سوچتے سوچتے اچانک دماغ میں آ گیا کہ Bell والے، جو ٹیلیفون کی 167