تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 166
خطاب فرمودہ 18 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک علوم کی نئی شاخیں ایجاد ہوئیں، چوٹی کے سائنس دان اس دور میں پیدا ہوئے اور پھر آپ کے وصال سے پہلے ان تمام ایجادات کا بیج بویا گیا، جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ان میں سے ایک ہوائی جہاز کی ایجاد ہے۔تو یہ جو نیا دور ہے۔مثلاً ATOMIC CONCEPT BY THE TURN OF THE PRESENT CENTURY IT HAD COME INTO OFFING۔یعنی اس سے پہلے ایٹم کے تصویر کا دور مبہم سا تھا۔لیکن اس صدی کے آغاز میں ہی یہ (offing) یعنی افق پر نظروں میں آچکا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں اس دور کی بنیادیں قائم ہوگئی تھیں اور جو مزید ترقی ہو رہی ہے، اس کا آغاز بھی دراصل آپ کے وقت میں ہو چکا تھا۔اسی طرح ہر نبی کے دور کے ساتھ ایک علم پھیلا ہے۔اس لئے آپ کو اس سے یہ سبق لینا چاہیے کہ یہ روشنی ، جس کے اول حقدار آپ ہیں ، جو حقیقت میں احمدیت کی برکت سے دنیا میں منتشر ہوئی ہے، یہ آخر احمدیت کی خدمت کے لئے انتشار پذیر ہوئی ہے۔اس روشنی سے ہم کیوں محروم رہیں؟ ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔سب سے بڑی مصیبت، جو ہماری راہ میں حائل ہے، وہ ہے احساس کمتری۔ایک عذاب ہے ہندستان اور پاکستان کی قوم کے لئے کہ بے وجہ احساس کمتری میں مبتلا ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ چیزیں باہر ہوسکتی ہیں، یہاں نہیں ہو سکتیں۔یعنی ایجادیں سب باہر ہوسکتی ہیں، یہاں نہیں ہو سکتیں۔ہمیں گویا دماغ ہی نہیں ملا کہ غور کر کے نئی نئی چیزیں نکال سکیں۔اگر ہر مضمون میں confidence یعنی خود اعتمادی پیدا ہو جائے تو چھوٹی عمر میں ہی انسان بڑے بڑے فاصلے طے کر لیتا ہے۔بے وجہ آپ کو ایف ایس سی بی ایس سی، ایم ایس سی کی قیود میں باندھ کر اگر آپ علمی سفر شروع کریں گے تو آپ کے پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہیں گی۔کیوں آپ ایف ایس سی میں، ایم ایس سی کی باتیں نہیں سوچ سکتے یا پڑھ سکتے ؟ آپ کو پڑھنا چاہیے، آپ پڑھ سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنا عظیم الشان دماغ دیا ہے کہ سائنسدان، جنہوں نے دماغ پر غور کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم دماغ کا ہزارواں حصہ بھی استعمال نہیں کر سکے۔untapped resources پڑے ہوئے ہیں۔اس کی چھان بین کرنے والے شکست تسلیم کر چکے ہیں کہ آج تک ہم سب سے کم جس چیز کو سمجھ سکے ہیں، وہ انسانی دماغ ہے اور بد قسمتی یہ ہے کہ اس کا اکثر حصہ بغیر استعمال کے ہی پڑارہ جاتا 166