تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 153 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 153

خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک عورت اچھی بھلی شکل، ٹھیک ٹھاک کپڑے اور قید ہوئی ہوئی ہے۔تمہیں تو بڑی تکلیف ہوتی ہوگی یہاں پھر کے۔یہ ساری دنیا آزاد پھر رہی ہے۔تم نے برقع تمبو سا پہنا ہوا ہے اور اس میں پھر رہی ہو۔اور دل چاہتا ہوگا، میں اسے پھاڑ پھوڑ کے باہر نکل جاؤں اور دنیا میں جس طرح ہماری عورتیں آزاد ہیں، اس طرح مزے لوں۔جب وہ خوب تقریر کر چکی تو میری بیوی نے اس سے کہا کہ جو تم نے باتیں کی ہیں، ان کی تو مجھے کوئی تکلیف نہیں۔میں تو بڑے مزہ میں ہوں۔اسلام تو ہمیں بڑی پیاری زندگی دے رہا ہے۔میں نے بڑی سیریں کی ہیں۔جہاں میرا میاں جاتا ہے، وہاں میں ساتھ جاتی ہوں۔اور جو وہ دیکھتا ہے، وہ میں بھی دیکھتی ہوں۔اور ہم تو بڑا لطف اٹھا رہے ہیں۔ایک تکلیف مجھے بڑی سخت ہے کہ تم لوگ اتنے گندے ہو ، اتنے ننگے ہو، کوئی شرم حیا نہیں ہے۔سارا عرصہ جو میں یہاں ٹھہری ہوں، نظر اٹھاتی تھی تو واپس آجاتی تھی۔شرم کے مارے دیکھا نہیں جاتا تھا۔وہ ایسی شرمندہ ہوئی کہ کہنے لگی، دیکھو، میں نے تو ٹھیک کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔اس انٹرویو کے جلد بعد میں نے وہاں سے اسے گھبرا کر نکلتے دیکھا ہے۔مجھے نہیں پتہ تھا، واقعہ کیا ہوا؟ انگریزی میں ایک محاورہ ہے کہ BAT OUT OF THE HELL جس طرح چمگادڑ گھبرا کر جہنم سے نکلتی ہے تو عجیب منظر ہوتا ہے۔یہ ان کا تصویری زبان میں ایک محاورہ ہے کہ کوئی آدمی پر جھاڑ کر نکل رہا ہوں کہیں سے۔تو میں نے دیکھا کہ وہ بڑی گھبرا کر اوپر سے نیچے اتری ہے۔کوئی بات تو اس نے نہیں کی۔مگر جب میں نے پستہ کیا اپنی بیوی سے تو اس نے کہا: وہ پریس کی نمائندہ تھی، مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا۔یہ واقعہ ہوا ہے، میرے ساتھ۔پس اللہ تعالیٰ ہر ایک کی مدد فرمارہا تھا۔یعنی سادہ آدمی کی بھی مدد فرماتا تھا اور ہوشیار کی بھی مدد فرماتا تھا۔سارا عرصہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور سہارے کے طفیل یہ سفر گذرا ہے۔ورنہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔جہاں یہ پریس کی نمائندہ اپنی کوشش کر رہی تھی کہ کسی طرح اسلام کا اثر ہٹ جائے ، وہاں دو طالب علم بھی بیٹھے ہوئے تھے اور ایک پادری بھی بیٹھا ہوا تھا۔وہ یو نیورسٹی کے سینئر طالب علم تھے اور ایک اچھا چوٹی کا پادری وہاں موجود تھا۔جب ہم فارغ ہوئے ہیں تو ہمارے دوستوں نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ وہ یو نیورسٹی کے دونوں لڑکے اپنے پادری کے پیچھے پڑ گئے کہ تم نے ہمیں ساری عمر دھوکے میں رکھا ہے۔اصل عیسائیت کا تو ان کو پتہ ہے، تمہیں تو کچھ پتہ ہی نہیں۔اور اسلام اتنا خوبصورت مذہب، اس کے متعلق آج ہمیں سمجھ آئی۔وہ ان سے بحث کرتا تھا، وہ اس کو جواب دیتے تھے۔اور اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے تھے کہ تم نے اب تک ہم سے کیا ظلم برقرار رکھا تھا۔بالکل جھوٹ بولتے رہے ہو۔اسلام سچاند ہب ہے۔اس نے آخر 153