تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 152 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 152

خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک ان کے پاس دو ہتھیار تھے۔ایک یہ کہ ایران کے خلاف وہاں کے پریس نے اتنا شدید اور ظالمانہ پروپیگنڈا کیا ہوا ہے کہ مجھے پتہ نہیں وہاں ایران میں کیا ہوتا ہے؟ لیکن جو تصویر وہاں کھینچ رکھی ہے، وہ اتنی بھیانک ہے اور اسلام کے ساتھ اس طرح باندھ رکھی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مینی صاحب کا نام لے کر سوال کیا جائے تو یہ لوگ پھنس جائیں گے۔اگر مخالفت کریں گے تو اسلامی سربراہ مملکت کی مخالفت کر رہے ہوں گے، اگر تائید کریں گے تو ہم کہیں گے، دیکھو جی ، یہ وہی اسلام ہے۔چنانچہ یہ ایک سوال ضرور ہوتا رہا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے تو فیق عطا فرمائی، جس رنگ میں نے جواب دیا، وہ پھر کسی وقت بیان کروں گا۔ورنہ میرے انصار بھائی کہیں گے، ابھی ابھی انصار سے نکل آئے ہو، ساری باتیں خدام کو بتادیں، ہمارے لیے کیا رکھا ہے؟ تو وہ فکر نہ کریں ، ان کو بتانے کے لئے بہت باتیں موجود ہیں۔دوسرا سوال تھا عورتوں کے متعلق کہ اسلام عورت پر ظلم کرتا ہے۔عورت سے یہ سلوک کرتا ہے ، وہ سلوک کرتا ہے۔اس کا جواب دینے کی بھی اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں توفیق دیتا تھا کہ بعض دفعہ عورت نمائندہ خود اقرار کرتی تھیں پریس کانفرنس میں کہ اسلام تو عورت کو مغربی سوسائٹی سے زیادہ عزت کا مقام دتیا ہے۔ہم اب تک دھوکے میں رہے۔اوسلو میں یہ واقعہ ہوا۔وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس کے جو لوگ تھے ، وہ شہر کے بڑے اچھے معززین تھے۔ان کے ایک گروہ کے اندر بڑی دلچسپ تبلیغ کا موقع مل گیا۔اس سے پہلے صبح پر یس کا نفرنس تھی، وہاں ایک عیسائی بہت ہی متعصب عورت نمائندہ آئی ہوئی تھی۔اس کی کچھ پیش نہیں جاتی تھی۔اس بیچاری نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح نیک اثر زائل ہو جائے لیکن نہیں ہو سکا۔اس نے پھر سوچا کہ میں دوبارہ جو معزز مہمان ہیں، ان میں بیٹھ کر پھر کوئی ایسی بات کروں۔چنانچہ جب تبلیغ ہورہی تھی، اس نے پھر یہی عورت کا سوال اٹھا دیا۔جب میں نے جواب دیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سارے مطمئن ہو گئے۔اس وقت اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔اس نے سوچا کہ یہ تو قابو نہیں آتا ، شاید اس کی بیوی قابو آجائے۔تو مجھے اس نے کہا: آپ کی بیوی ساتھ آئی ہوئی ہیں؟ میں نے کہا: ہاں ، آئی ہوئی ہیں۔کہاں ہیں؟ میں کہا: او پر ہیں۔کہا: ہمیں اجازت ہے، ملنے کی۔میں نے کہا: آزادی ہے، بے شک شوق سے ملیں۔کوئی قید خانہ تھوڑا ہے اسلام میں کہ عورتوں کو قید کر دینا ہے۔جائیں جتنی دیر مرضی بیٹھیں۔چنانچہ میں خود او پر جا کر ان کو چھوڑ آیا۔لیکن وقت نہیں ملا تعارف کروانے کا کہ یہ پریس کی نمائندہ ہیں، ورنہ میری بیوی ذرا ہوشیار ہو کر بیٹھتیں۔اندر جا کر اس نے ایسی ہوشیاری کی کہ بہت ہی محبت اور پیار کا سلوک کر کے کہا: بیچاری مظلوم 152