تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 151
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء آنے سے پہلے سوئٹزر لینڈ سے دو بڑی دلچسپ خبریں موصول ہوئیں۔ایک یہ کہ جنیوا، جہاں ہم نے کوئی پریس انٹرویو دیا ہی نہیں، واقف ہی نہیں، وہاں کے پریس کے، وہاں سب سے زیادہ کثیر الاشاعت اخبار کی CUTTING آئی، جس نے اتنی تفصیل سے مسجد سپین اور احمدیت پر مض ر مضمون لکھا ہے کہ اس کو پڑھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے کہ اس کو کیا سو بھی ہے؟ بیٹھے بٹھائے احمدیت پر اور مسجد بشارت پر اتنا شاندار مضمون لکھ دیا ہے۔اور وہ وہاں کا کثیر الاشاعت اخبار ہے۔اور دوسری خبر ، جس سے دل باغ باغ ہو گیا، وہ یہ تھی کہ ایک سوئس عیسائی، جو گذشتہ کئی سال سے پین میں آباد ہوا ہوا تھا ، وہ سوئٹزرلینڈ کے مشن میں پہنچا۔پہلے خط کے ذریعہ رابطہ قائم کیا، پھر خود پہنچ کر اس نے یہ واقعہ سنایا۔اس نے کہا کہ میں پچھلے پانچ سال سے سوچ رہا تھا کہ اسلام اچھا مذ ہب ہے، میں مسلمان ہونا چاہتا تھا۔لیکن کچھ مجھ نہیں آتی تھی کہ کیا ہوں ؟ میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کو خط لکھے۔شیعوں سے بھی رابطہ کیا سنیوں سے بھی رابطہ کیا۔مختلف ممالک کے علماء سے ملا۔انہوں نے بھی از راہ شفقت اپنے علماء بھجوائے اور میری گفت و شنید ہوئی۔لیکن مجھے یوں لگتا تھا کہ دل پر تالا ہے، جو کھلنے میں نہیں آتا۔چند دن پہلے میں بیٹھا ٹیلی ویژن دیکھ رہا تھا تو اچانک مسجد بشارت کا افتتاح شروع ہو گیا۔اور دیکھتے دیکھتے یوں محسوس ہوا کہ آسمان سے کوئی ہاتھ آیا اور اس نے چابی سے تالا کھول دیا ہے۔اس ہاتھ نے وہ تالا کھول دیا۔اور مجھے اسی وقت پوری طرح انشراح ہو گیا اور مجھے معلوم ہو گیا کہ خدا اسی لئے مجھے روکے ہوئے تھا کہ یہ اسلام ہے، جس میں مجھے داخل ہو جانا چاہیے۔چنانچہ وہ اسی وقت بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گیا۔ایسے بے شمار واقعات ہیں، جو بات کرو تو کھلتے چلے جاتے ہیں۔بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے۔یوں لگتا ہے، جیسے کوئی نہ ختم ہونے والی کہانی ہے۔جب میں آیا تھا ، بات شروع کرنے کے لئے میرا ذہن اس وقت بالکل خالی تھا۔مگر مجھے علم تھا کہ یہ مضمون ہی ایسا ہے، جب میں اس میں داخل ہوں گا تو اللہ تعالیٰ ایک کے بعد دوسری راہ کھولتا چلا جائے گا۔میں پہلے پریس کے متعلق بیان کر رہا تھا۔اس کے متعلق اب آخر پر ایک دلچسپ واقعہ سنادیتا ہوں۔چونکہ یہ مضمون تو ایک قسط میں ادا ہونے والا ہے ہی نہیں، آپ لوگوں نے واپس بھی جانا ہے، اس لئے مجھے ختم کرنا چاہئیے۔پریس میں، میں نے یہ محسوس کیا کہ جب وہ دیکھتے تھے کہ اسلام کی تبلیغ شروع ہو گئی ہے اور اثر پڑنے لگ گیا ہے۔یعنی خود پریس والوں پر بھی ایسا نمایاں اثر پڑنے لگ جاتا تھا کہ وہ ہاں میں ہاں ملانے لگ جاتے تھے۔اور یہ عجیب بات تھی۔تو ان میں سے بعض، جو اسلام کے خلاف کچھ تعصب رکھتے تھے، وہ چاہتے تھے کہ رخ اس طرح پلئے کہ کسی طرح اسلام کے خلاف بات ہو جائے۔151