تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 150 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 150

خطاب فرموده 117 کتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم باتیں شروع کر دیں۔یعنی خانہ کعبہ کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا۔کہا تو بس یہ کہ میرے سو اونٹ تھے ، ان میں سے اتنے چوری ہو گئے۔تمہارے لشکر والوں نے چوری کئے ہیں۔اور میں سردار ہوں، اس لئے تم میرے اونٹ واپس کرواؤ۔تم اچھے بادشاہ ہو، جو پرانے سرداروں کی عزت کا کوئی خیال ہی نہیں کرتے۔میرے اونٹ واپس کرو۔وہ چپ کر کے بات سنتا رہا۔اس کے بعد اس نے کہا کہ آج میں تم لوگوں سے بڑا ہی مایوس ہوا ہوں ، تم ایسی بے غیرت قوم ہو کہ اس وقت تمہیں اپنے اونٹوں کی فکر ہے۔حالانکہ اہل کعبہ کا نمائندہ بن کر آئے ہو اور اس کعبہ کی کوئی فکر نہیں، جس کو مسمار کرنے کے لئے میں اتنا بڑ الشکر لے کر آیا ہوں۔اس نے کہا، میں اسی سوال کا انتظار کر رہا تھا۔دیکھو، میں اونٹوں کا مالک ہوں ہم نے اندازہ کر لیا ہے کہ مجھے اپنے اونٹوں کی کتنی فکر ہے؟ اس خانہ کعبہ کا میرا رب مالک ہے، وہ فکر کرے گا اپنے گھر کی۔تو میں نے یہ سوچا کہ وہی رب، ہمارا رب ہے، جو خانہ کعبہ کا رب تھا۔وہ پلٹی کی آپ فکر کرے گا، ہمیں کوئی ضرورت نہیں ، اس پر کسی قسم کے خرچ کرنے کی۔چنانچہ انہوں نے اپنے خرچ پر وہ پلیٹی اس طرح کی کہ ہمیں کچھ مجھ نہیں آئی کہ کیا واقعہ ہوا؟ ہمیں عرب ممالک سے خط آنے لگ گئے کہ ہم بیٹھے ہوئے ٹیلی ویژن دیکھ رہے تھے، اچانک آپ کی تصویر آئی اور پتہ لگا کہ مسجد بشارت کا افتتاح ہورہا ہے۔یعنی وہ عرب ممالک، جہاں احمدیت BAN کی ہوئی ہے، وہاں ٹیلی ویژن پر مسجد بشارت سپین کا افتتاح خدا تعالیٰ کے فرشتے دکھارہے تھے۔اس لئے کون کہتا ہے کہ یہ مبالغہ ہے کہ آسمان سے ہم نے موسلا دھار بارش کی طرح خدا کے فضلوں کو برستے دیکھا ہے؟ خدا کی قسم یہ مبالغہ نہیں ہے۔اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں، جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اس خدا کی قسم کھا کر میں کہتا ہوں، جو خانہ کعبہ کا خدا ہے، جو محمد مصطفیٰ کا خدا ہے کہ اس بات میں ایک لفظ بھی مبالغہ نہیں ہے۔ہماری زبانیں بیان نہیں کر سکتیں، اس کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوئے ہیں۔یہ تقریب آئی اور گذر گئی۔اور ہماری طرف سے اس کی تفصیلی رپورٹیں بھیجنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں تھا۔ہماری طاقت ہی نہیں تھی۔لیکن حیرت انگیز طور پر یورپ کے سارے ممالک نے اس کو COVER کیا۔کس طرح کیا ؟ کیا واقعہ ہوا؟ مجھے تو سمجھ نہیں آیا۔بیلجیئم ایک ملک باقی رہتا تھا، تقریب کے دوسرے دن میں بیٹھا ہوا تھا تو اچانک دیکھا کہ ایک بیلجیئم کا نمائندہ بھی پہنچ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر یہ خبریں سنیں اور میں حیران رہ گیا کہ میں اس کو کسی طرح MISS کر گیا ہوں؟ اس لئے میں میڈرڈ سے صرف اس غرض سے آیا ہوں کہ آپ مجھے انٹرویو دیں اور میں اسے اپنے ریڈیو سے نشر کرواؤں۔چنانچہ وہ خود انٹر ویو لے کر گیا اور شائع کیا۔150