تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 149 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 149

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء یہی سمجھ رہا تھا۔لیکن میں اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھ رہا تھا۔میں نے کہا کہ اے خدا! ان کو پیغام پہنچنا ہے، خواہ ظفر اللہ خان کی زبان سے پہنچے یاڈاکٹر سلام کی زبان سے پہنچے۔پیغام اسلام تو پہنچ رہا ہے۔میں اس پر بڑا راضی ہوں۔لیکن حیرت کی انتہا نہ رہی، جب دیکھا کہ آخر وقت تک سب لوگ بیٹھے رہے۔اور اہل پین کے مزاج کو جو جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ وہ بے انتہاء باتیں کرنے والی قوم ہے اور زیادہ دیر بیٹھ ہی نہیں سکتے۔وہ ادھر ادھر پھرنے لگ جاتے ہیں، خوب باتیں کرتے ہیں۔پھر وہ بہت بیج کھاتے ہیں اور ہر وقت خربوزوں یا تربوزے کے بیج کھاتے رہتے ہیں۔ان کی توجہ زیادہ بیج کی طرف ہی رہتی ہے۔وہاں سارے ہزاروں کے مجمع میں کسی نے بیچ نہیں کھایا، کسی نے باتیں نہیں کیں۔اور اس خاموشی سے تقریرینی ہے کہ تقریر کے دوران اگر کوئی بچہ بھی بولتا تھا تو ساتھ بیٹھا ہوا آدمی اس کو خاموش کر ادتیا تھا۔اور مسجد کا صحن بھر گیا، اس سے باہر شاہراہ تھی، اس سے باہر لوگ کھڑے تھے۔گاؤں الہ آیا تھا اور بہت دور دور سے بعض لوگ پہنچے ہوئے تھے۔بعد میں جب ہم نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہوئی ہے؟ آپ کس طرح تشریف لائے ؟ یعنی بعض احمدی دوستوں نے ان سے مل کر سوال کئے تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے تو ریڈیو پر اور ٹیلی ویژن پر یہ خبریں سنی تھیں، ہمیں تو کوئی دعوت نامہ نہیں پہنچا۔یعنی ریڈیو کانظام بھی اللہ تعالی کے فضل کے ساتھ مسلسل پروپیگنڈا کر رہا تھا۔باوجود اس کے کہ ہم ان کو یہ بتا چکے تھے کہ یہاں ہماری کل تعداد میں ہے۔آپ اندازہ کریں کہ ایک غیر ملک میں، ایک عیسائی ملک میں تمہیں کی تعداد کا کوئی دعویدار ہو، اس کے ساتھ یہ سلوک کہ مسجد بشارت سپین کی افتتاحی تقریب کو تقریباً ایک ہفتہ تک سپنیش ٹیلی ویژن میں دن میں تین ، تین بار دکھاتی رہی۔اپنے ہی خرچ پر انہوں نے باقی جو نظام ہیں، یعنی دنیا کے ٹیلی ویژن کے نظام ہیں، ان کو بھی بھجوائی۔اس سے پہلے سوئٹزر لینڈ کے ایک احمدی نے مجھے یہ کہا کہ آپ کو پلیٹی پر خرچ کرنا پڑے گا۔ورنہ ہماری تقریب کا کسی کو پتہ نہیں لگنا۔میں نے کہا، ہمارے پاس کوئی پیسے نہیں ہیں۔پہلے ہی بہت پیسے خرچ ہو چکے ہیں۔اس لئے نہیں ہوتی پہلیٹی تو نہ ہو۔اللہ تعالیٰ ذمہ دار ہے، ہم کوئی ٹھیکیدار تو نہیں لگے ہوئے۔جس کا کام ہے، وہ جانے۔وہ واقعہ میرے ذہن میں آیا کہ جب خانہ کعبہ پر حملہ کیا گیا ، اصحاب فیل حملہ آور ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب عرب کے روساء میں سے وہ شخص تھے، جن کو نمائندہ بنا کر ان کے پاس بھجوایا گیا۔ابرہہ کے پاس نمائندگی کے طور پر ان کو بھجوایا گیا کہ وہ کسی طرح اس کو سمجھا بجھا کر باز رکھیں۔یہ بڑی مقدس جگہ ہے ، تم اس کی تحقیر نہ کرو۔وہ گئے اور انہوں نے اپنے اونٹوں کی کی 149